مقبوضہ فلسطین – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے یکجہتی کارکنوں کو قابض اسرائیل کی افواج کی جانب سے جن سنگین زیادتیوں اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا وہ دراصل فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم کا ہی تسلسل ہے۔ تنظیم نے انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں پر انصاف اور جوابدہی کو یقینی بنانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم نے ایک بیان میں واضح کیا کہ 430 پرامن یکجہتی کارکنوں میں گیارہ آسٹریلوی شہری بھی شامل تھے جنہیں دوران حراست بدترین تشدد، بے رحمانہ، توہین آمیز اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم اور یکجہتی کارکنوں کے وکلاء کی جانب سے جمع کی گئی دستاویزات کے مطابق ان کی یہ حراست مکمل طور پر غیر قانونی تھی۔
تنظیم نے مزید بتایا کہ فریڈم فلوٹیلا میں شامل وکلاء اور یکجہتی کارکنوں نے درجنوں ایسے کیسز کی دستاویزات تیار کی ہیں جن میں متاثرہ افراد کی پسلیاں ٹوٹنے کا شدید شبہ ہے جس کی وجہ سے ان میں سے کئی لوگوں کو سانس لینے میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ ایسی شہادتیں اور رپورٹیں بھی ملی ہیں جو زیر حراست افراد کو شدید ترین بے عزتی، جنسی ہراساں کیے جانے اور ذلت آمیز رویوں کا نشانہ بنانے کی تصدیق کرتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یکجہتی کارکنوں کے بیانات میں سامنے آنے والے جسمانی اور جنسی حملے انتہائی تشویشناک ہیں، اور یہ الزامات بین الاقوامی قانون کے مطابق ایک آزاد اور شفاف تحقیقات کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ ان گھناؤنے جرائم کے تمام ذمہ داروں کا سخت محاسبہ کیا جا سکے۔
تنظیم نے ان مظالم کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے بین الاقوامی عدالت انصاف سمیت دیگر عالمی احتسابی اداروں کو متحرک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا سمیت تمام ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان عالمی اداروں کے فعال ہونے کو یقینی بنائیں اور احتساب کے اس عمل کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں۔
اسی تناظر میں آسٹریلیا میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے امور کے لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ترجمان محمد دوار نے کہا کہ اس مشن میں حصہ لینے والے سویلین یکجہتی کارکن، جن میں گیارہ آسٹریلوی شہری بھی شامل تھے، ایک پرامن یکجہتی مہم کا حصہ تھے۔ اس مہم کا مقصد غزہ کی پٹی پر گذشتہ انیس سال سے مسلط قابض اسرائیل کے ظالمانہ محاصرے کو توڑنا اور محصور فلسطینیوں تک انتہائی ضروری انسانی و طبی امداد اور بنیادی ضروریات زندگی پہنچانا تھا۔
محمد دوار نے واضح کیا کہ اس مشن کے شرکاء بیس لاکھ سے زائد ان فلسطینیوں کی مدد کی کوشش کر رہے تھے جو بدترین انسانی بحران اور سفاکیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یکجہتی کارکنوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے بے رحمانہ، توہین آمیز اور غیر انسانی سلوک کی یہ رپورٹیں دراصل اس روزمرہ کی ہولناک سچائی کا عکس ہیں جسے عام فلسطینی روز جیتا ہے۔
پرامن یکجہتی کارکنوں کے خلاف کی جانے والی یہ سنگین زیادتیاں قابض اسرائیل کے عسکری قبضے اور فلسطینیوں پر مسلط کردہ نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کے وسیع تر تناظر سے الگ نہیں کی جا سکتیں۔
محمد دوار، ترجمان ایمنسٹی انٹرنیشنل
انہوں نے اشارہ کیا کہ پرامن یکجہتی کارکنوں کے خلاف ہونے والی ان سنگین خلاف ورزیوں کو فلسطینیوں پر مسلط غاصبانہ فوجی قبضے اور نسلی امتیاز کے نظام سے الگ دیکھنا ناممکن ہے، کیونکہ یہ حالیہ رپورٹیں ان مسلسل مظالم کا واضح ثبوت ہیں جو فلسطینی عوام طویل عرصے سے برداشت کر رہے ہیں۔
محمد دوار نے بتایا کہ غاصبانہ قبضے کے آغاز سے لے کر اب تک دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو قید کیا جا چکا ہے، اور اب بھی تقریباً دس ہزار فلسطینی قابض صہیونی عقوبت خانوں میں سڑ رہے ہیں، جن میں وہ انتظامی قیدی بھی شامل ہیں جنہیں بغیر کسی ٹرائل یا سرکاری الزامات کے پس دیوار زنداں رکھا گیا ہے۔
انہوں نے ان ویڈیو فوٹیجز کا بھی ذکر کیا جن میں قابض اسرائیل کا داخلی سکیورٹی کا وزیر ایتمار بن گویر حراست میں لیے گئے یکجہتی کارکنوں کا تمسخر اڑاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مناظر اس وحشیانہ تشدد اور بدسلوکی کی یاد دلاتے ہیں جس کا نشانہ فلسطینیوں کو کئی دہائیوں سے بنایا جا رہا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس بات پر سخت زور دیا کہ ان تمام جرائم کے ذمہ داروں کا محاسبہ ہونا ضروری ہے، اور کسی بھی حکومت یا متعلقہ حکام کو بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کو سزا سے بچنے یا انہیں کسی بھی قسم کا تحفظ فراہم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیے۔
تنظیم نے آخر میں کہا کہ مسلسل چھٹکارا پانے کی یہ روش جرائم کی تکرار کا سبب بنتی ہے اور بین الاقوامی انصاف کے اصولوں کو سبوتاژ کرتی ہے، لہٰذا عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ عملی اقدامات اٹھائے تاکہ ان تمام سنگین کارروائیوں میں ملوث افراد کا کڑا احتساب ہو سکے اور مستقبل میں ایسے بھیانک جرائم کا سدباب کیا جا سکے۔
