بلباو – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) شمالی اسپین کے شہر بلباو میں اتوار کے روز ایک بہت بڑا عوامی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی کال “گلوبل صمود – صوبہ باسك” نامی پلیٹ فارم نے دی تھی۔ یہ احتجاج شہر کے لويّو ہوائی اڈے پر غزہ کی پٹی کا جابرانہ محاصرہ توڑنے کی کوشش سے واپس لوٹنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے یکجہتی کارکنوں کے استقبال کے دوران باسک کے علاقے کی پولیس “إرتثاينتسا” کی وحشیانہ مداخلت اور حملے کے خلاف کیا گیا۔
اس شدید احتجاج کا آغاز بلباو میں تھیٹر ارياغا کے چوک سے ہوا جہاں مظاہرے کے منتظمین نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بحری بیڑے کے ارکان کے استقبال کے دوران پولیس کی جابرانہ مداخلت “کوئی اتفاق نہیں” تھی بلکہ ان کے بقول اس کا مقصد “غزہ کی پٹی اور بحری بیڑے کے ارکان کے ساتھ عوامی یکجہتی کے جذبے کو کچلنا تھا”۔
“گلوبل صمود – إقليم الباسك” پلیٹ فارم نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ پولیس کی اس وحشیانہ مداخلت کو بے نقاب کرنے والی ویڈیوز خود اپنی زبان سے سچائی بیان کر رہی ہیں اور سچی گواہی دے رہی ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ گذشتہ سالوں کے دوران بلباو ہوائی اڈے پر آزادی کے بحری بیڑے کے ارکان کے استقبال کے مواقع پر کبھی کوئی مسئلہ یا رکاوٹ پیش نہیں آئی تھی اور اس بار سارا تناؤ اور بدمزگی صرف اس “إرتثاينتسا” پولیس کی موجودگی کی وجہ سے پیدا ہوئی۔
منتظمین نے باسک پولیس پر سنگین الزام عائد کیا کہ وہ ہوائی اڈے پر صرف اور صرف یکجہتی کے جذبے کو دبانے اور بحری بیڑے کے ارکان کے حوصلے توڑنے کے لیے پہنچی تھی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیس کی یہ سفاکیت اور تشدد ایک غیور عوام کی لازوال عزت و وقار سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گیا۔
مظاہرے کے شرکا نے باسک کی علاقائی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور اس پر قابض اسرائیل کے جنگی جرائم پر پردہ ڈالنے اور غاصب صہیونی ریاست کے ساتھ اپنے سیاسی و سکیورٹی تعلقات جاری رکھنے کا مجرمانہ الزام لگایا۔ اس کے ساتھ ہی منتظمین نے انکشاف کیا کہ باسک کے کچھ تاجر اور کاروباری شخصیات صہيونیت اور سامراجی جنگوں کے ساتھ تعاون کر کے ناجائز منافع کما رہے ہیں جو کہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں بالواسطہ شراکت داری ہے۔
