بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنوبی لبنان میں متعدد قصبوں پر قابض اسرائیل کی شدید فضائی بمباری کے ساتھ ہی فوجی جارحیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہو گئے ہیں جبکہ طبی عملے اور صحت کی سہولیات کو براہ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے، دوسری طرف حزب اللہ نے قابض اسرائیل کے ٹھکانوں اور گاڑیوں پر نئے حملوں کا اعلان کیا ہے، یہ پیش رفت لبنانی سکیورٹی اور سیاسی شخصیات پر عائد کی جانے والی امریکی پابندیوں کے ساتھ ہی سامنے آئی ہے۔
جمعہ کے روز علی الصبح اسلامک ہیلتھ اتھارٹی کے چار طبی کارکنان اس وقت شہید ہو گئے جب قابض اسرائیل نے جنوبی لبنان میں صور کے علاقے میں واقع قصبے حناویہ میں اتھارٹی کے ایک مرکز کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا، جبکہ اس حملے میں دو دیگر طبی کارکنان زخمی بھی ہوئے ہیں۔
لبنانی شہری دفاع نے بھی دير قانون النہر قصبے پر قابض اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں اپنے دو طبی کارکنان کی شہادت کا اعلان کیا ہے، جبکہ مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسی حملے میں فوٹو جرنلسٹ احمد حریری بھی جام شہادت نوش کر گئے ہیں۔
تبنین ہسپتال پر حملہ
لبنانی وزارت صحت نے تبنین سرکاری ہسپتال کے گردونواح کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے، یہ مذمت قابض اسرائیل کے اس فضائی حملے کے بعد سامنے آئی ہے جس سے ہسپتال کو شدید نقصان پہنچا اور نو افراد زخمی ہو گئے، جن میں ہسپتال کے سات ملازمین بھی شامل ہیں۔
یہ حملہ ایک ایسے دن کے بعد ہوا ہے جس میں جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر 30 سے زائد فضائی حملے، فضائی اور توپ خانے سے بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں گذشتہ جمعرات کو ایک شخص شہید اور کم از کم نو دیگر زخمی ہو گئے تھے، یہ صورتحال قابض اسرائیل کی طرف سے سیز فائر (یا جنگ بندی) کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے سائے میں دیکھی جا رہی ہے۔
فرون قصبے میں ایک موٹر سائیکل کو نشانہ بنا کر کیے گئے فضائی حملے کے نتیجے میں بھی ایک شخص شہید ہو گیا، جبکہ صور، بنت جبیل، مرجعیون اور النبطیہ کے علاقوں میں واقع متعدد قصبوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رہا۔
قابض اسرائیل کے فضائی حملے بنت جبیل، صور، مرجعیون اور النبطیہ کے اضلاع میں پھیلے ہوئے تھے، جن میں تبنین، یاطر، المنصوری، صریفا، عین بعال، تولین اور کفرتبنیت کے قصبے شامل تھے، اس کے ساتھ ساتھ برعشیت، كفردونين، حداثا، قبريخا، شوكين، زوطر الشرقية اور يحمر الشقيف پر توپ خانے سے شدید گولہ باری کی گئی۔
قابض فوج نے الخیام قصبے میں دھماکے خیز مواد سے عمارتیں اڑانے کی کارروائیاں بھی کیں، جس کے ساتھ ہی جنوبی لبنان کی فضائی حدود میں جاسوس ڈرونز اور فوجی ہیلی کاپٹروں کی شدید پروازیں جاری رہیں۔
دوسری طرف، حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں میزائلوں اور نگران و حملہ آور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے قابض اسرائیل کے فوجیوں اور گاڑیوں کے خلاف 16 حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ کچھ حملے ایسے ڈرونز کے ذریعے کیے گئے جو فائبر آپٹک ٹیکنالوجی پر کام کرتے ہیں، یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس نے قابض اسرائیل کے اندر شدید تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ اس کا پتہ لگانا یا اس کے سگنلز میں خلل ڈالنا انتہائی مشکل ہے۔
لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ دو مارچ سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 3089 تک پہنچ گئی ہے اور 9397 افراد زخمی ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ دس لاکھ سے زائد افراد اپنے علاقوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
امریکی پابندیاں اور حزب اللہ کا جواب
سیاسی محاذ پر، امریکہ کی وزارت خزانہ نے لبنان میں نو افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن میں حزب اللہ کے ارکان پارلیمنٹ، امل موومنٹ کی شخصیات، لبنانی فوج اور پبلک سکیورٹی کے حکام شامل ہیں، ان پر امن کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے اور حزب اللہ کو نہتا کرنے کی راہ میں روڑے اٹکانے کا الزام لگایا گیا ہے۔
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی سے منسلک امریکی دباؤ کے سلسلے میں یہ پہلا ایسا قدم ہے جس میں لبنانی ریاست کے سرکاری سکیورٹی اداروں کے حکام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان پابندیوں کے جواب میں حزب اللہ نے واضح کیا ہے کہ امریکی اقدامات لبنانی عوام کو ڈرانے دھمکانے اور لبنان پر اسرائیلی جارحیت کی پشت پناہی کرنے کی ایک گھناؤنی کوشش ہے، حزب اللہ نے اصرار کیا کہ نشانہ بننے والے افراد کا اصل جرم یہ ہے کہ انہوں نے مزاحمت کو نہتا کرنے کی سازش کو مسترد کیا اور سر تسلیم خم کرنے کے منصوبوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
حزب اللہ نے مزید کہا کہ یہ پابندیاں اس کے سیاسی اور عسکری ونگ کے فیصلوں پر ہرگز اثر انداز نہیں ہوں گی، اور لبنانی حکام پر زور دیا کہ وہ اپنے سکیورٹی و فوجی اداروں کا دفاع کریں اور بیرونی دباؤ کے سامنے قومی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنائیں۔
