Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اماراتی منصوبے پر تنقید، رفح کی تعمیر نو تنازع کا شکار

رفح – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) عربی اخبار العربی الجدید کی شائع کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنوبی شہر رفح کے اندر اماراتی فنڈنگ سے تعمیر نو کے منصوبوں میں فلسطینی کمپنیوں کی شرکت کی تیاریوں سے متعلق الزامات پر شدید بحث اور تنازع کھڑا ہو گیا ہے، یہ مہم جوئی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب رفح شہر پر قابض اسرائیل کی فوج کا کنٹرول برقرار ہے اور وہاں کے غیور باسی ان تمام انتظامات کو مسترد کر رہے ہیں جو ان کی مرضی کے بغیر کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں مسلسل ایسی معلومات سامنے آئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ کچھ مقامی کمپنیاں رفح کے اندر سے ملبہ ہٹانے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں تاکہ وہاں نئی رہائشی بستیوں اور علاقوں کا قیام عمل میں لایا جا سکے، ان خبروں نے عوامی سطح پر شدید غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور ان منصوبوں کی اصل حقیقت اور ان کی نگرانی کرنے والے اداروں پر گہرے شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔

غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر رفح کو سات مئی سنہ 2024ء کو شروع ہونے والی وحشیانہ جارحیت کے بعد سے بڑے پیمانے پر تباہی کا نشانہ بنایا گیا ہے، غاصب قابض فوج نے شہر پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کر کے وہاں فضائی و توپ خانے سے اندھا دھند بمباری کی اور عمارتوں کو باقاعدہ منصوبے کے تحت دھماکوں سے اڑایا، جس کے ساتھ ہی وہاں کے اصل باشندوں اور غزہ شہر و شمالی غزہ سے ہجرت کر کے وہاں پناہ لینے والے مظلوم مہاجرین کو زبردستی وہاں سے نکال دیا گیا۔

گذشتہ اکتوبر کے مہینے میں سیز فائر (یا جنگ بندی) کا معاہدہ نافذ ہونے کے باوجود رفح کا علاقہ قابض اسرائیل کی فوج کے قبضے میں ہی رہا کیونکہ قابض دشمن نے معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت وہاں سے نکلنے سے صاف انکار کر دیا تھا، جس کے باعث رفح کے باسی اب بھی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں در بدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

تعمیر نو کا متنازع منصوبہ

رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ رفح شہر کا نام تعمیر نو کے متعدد علاقائی اور بین الاقوامی منصوبوں میں سامنے آیا ہے، جن میں متحدہ عرب امارات کی فنڈنگ سے تیار کردہ ایک مجوزہ منصوبہ بھی شامل ہے جسے رفح الجدیدہ (نیا رفح) کا نام دیا گیا ہے اور اس کے تحت تقریباً ایک لاکھ رہائشی یونٹس پر مشتمل بستی تعمیر کی جانی ہے۔

اس کے علاوہ گذشتہ فروری کے مہینے میں عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی باخبر ذرائع کے نقشوں اور معلومات کے حوالے سے ایک اماراتی منصوبے کا پردہ چاک کیا تھا جس کا مقصد رفح میں ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کے لیے رہائشی بلاکس تعمیر کرنا ہے۔

رپورٹ میں امریکہ کے ایک اور منصوبے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جسے شروق الشمس (طلوعِ آفتاب) کا نام دیا گیا ہے، اس منصوبے کی نگرانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور امریکی مندوب سٹیو وٹکوف کر رہے ہیں، اس کا مقصد رفح اور مشرقی علاقوں سے غزہ کی تعمیر نو کا آغاز کر کے غزہ کی پٹی کے ایک بڑے حصے کو سرمایہ کاری اور سیاحت کے لیے ساحلی پٹی میں تبدیل کرنا ہے، بعد میں اسی منصوبے کو ڈاؤس اقتصادی فورم کے دوران غزہ الجدیدہ (نیا غزہ) کے نام سے دوبارہ پیش کیا گیا۔

اسی طرح ایک اور منصوبہ رفح الخضراء (سبز رفح) کے نام سے بھی سامنے لایا گیا ہے جس کا محور نام نہاد پیلی لائن کے مشرق میں ملبے کی صفائی اور زمین کو ہموار کرنا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ ان منصوبوں کو شہر کی آبادیاتی خصوصیات کو بدلنے اور فلسطینیوں کو فوجی کنٹرول کے ماتحت الگ تھلگ حصوں میں محصور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اسی تناظر میں یورو میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے گذشتہ جنوری کے مہینے میں ایک ہنگامی بین الاقوامی مداخلت کی اپیل کی تھی تاکہ رفح میں جاری بڑے پیمانے پر تباہی اور زمین کو بلڈوز کرنے کے عمل کو روکا جا سکے، انہوں نے خبردار کیا کہ ان منصوبوں کا مقصد آبادی کو زبردستی الگ تھلگ مراکز میں جمع کرنا ہے۔

العربی الجدید نے رفح کے شہداء کے خاندانوں کی نمائندہ کمیٹی کے ایک ذمہ دار ذریعے کا بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ گذشتہ دنوں کے دوران کچھ مقامی کمپنیوں اور مزدوروں نے شہر کے اندر ان منصوبوں پر کام شروع کرنے کے لیے رفح میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، تاہم سکیورٹی اداروں نے کام کی مشکوک نوعیت اور اس کی نگرانی کرنے والے اداروں کی وجہ سے انہیں روک دیا۔

ذرائع نے مزید کہا کہ شہداء کے خاندانوں کی کمیٹی قابض دشمن کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون یا اس کے بھیانک منصوبوں کے تحت کام کرنے کو فلسطینی عوام کی قربانیوں اور معصوم شہداء کے خون کے ساتھ صریح غداری سمجھتی ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کو ابھی تک ملبے تلے یا رفح کے قبرستانوں میں موجود اپنے پیاروں کے جسدِ خاکی کے انجام کا علم نہیں ہے، جبکہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ جنگ کے دوران قابض اسرائیل کی نگرانی میں لوگوں کو اجتماعی طور پر دفن کیا گیا تھا۔

مذکورہ ذریعے نے ایک کمپنی پر قابض دشمن کے ساتھ گٹھ جوڑ کو چھپانے کا الزام لگایا اور واضح کیا کہ رفح کے کھنڈرات پر اور شہریوں کی زمینوں و املاک پر ڈاکہ ڈال کر ایک نیا شہر بسانے کے لیے عملی طور پر کچھ تحرکات جاری ہیں۔

مکمل تباہ شدہ شہر

دوسری طرف رفح کے میئر احمد الصوفی نے کہا ہے کہ بلدیہ کے پاس ایسی کوئی مصدقہ معلومات نہیں ہیں کہ کوئی فلسطینی کمپنی قابض دشمن کے ساتھ کسی قسم کے تال میل کے ذریعے شہر کے اندر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ رفح اب بھی ایک مکمل طور پر مقبوضہ اور کٹا ہوا شہر ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس شہر کی زمینوں کے مالکان معلوم ہیں اور ان کی ملکیت قانونی دستاویزات سے ثابت ہے، لہذا شہر کے باسیوں کی شمولیت کے بغیر تعمیر نو کی کوئی بھی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

احمد الصوفی کے مطابق رفح کے اصل باشندوں کی تعداد تقریباً تین لاکھ دس ہزار ہے اور جنگ سے پہلے یہاں لگ بھگ پینتیس ہزار رہائشی مکانات موجود تھے، لیکن اب یہاں تباہی کا تناسب 95 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ پانی، سیوریج کے نیٹ ورک اور سڑکوں سمیت تمام بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ کوئی بھی کمپنی قابض دشمن کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے رفح کے اندر کام کر رہی ہے تو بلدیہ سخت قانونی راستہ اختیار کرے گی۔

واضح رہے کہ انروا کے اعداد و شمار کے مطابق قابض فوج کے حملے سے پہلے رفح کے اندر کسمپرسی کی حالت میں جمع ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد چودہ سے پندرہ لاکھ کے درمیان تھی، جن میں سے اکثریت غاصبوں کے ظلم کا شکار بننے والے غزہ شہر اور شمالی غزہ کے باسیوں کی تھی۔

ملزم کمپنی کی جانب سے تردید

دوسری جانب مسعود اینڈ علی کمپنی کے مالک مصطفیٰ مسعود نے حالیہ عرصے میں رفح کے اندر کسی بھی قسم کا کام کرنے کی سختی سے تردید کی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی کمپنی پر لگائے جانے والے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیش کردہ منصوبہ ابھی صرف ابتدائی خاکہ ہے اور شہر پر قابض اسرائیل کا قبضہ برقرار ہونے کی وجہ سے اس پر عملدرآمد شروع نہیں ہوا، انہوں نے وضاحت کی کہ اس منصوبے میں متحدہ عرب امارات کی مالی معاونت سے عارضی رہائشی یونٹس اور موبائل ہومز کی تعمیر شامل ہے جو ایک مصری کمپنی اور ان کی کمپنی کے مشترکہ تعاون سے ہونی ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عملی طور پر کسی بھی کام کا آغاز رفح سے قابض دشمن کے مکمل انخلا سے مشروط ہے، انہوں نے یاد دلایا کہ ان کی کمپنی ماضی میں غزہ میں عوامی خدمات کے منصوبوں پر کام کر چکی ہے جن میں پانی صاف کرنے کے پلانٹس اور سیوریج کی ٹریٹمنٹ شامل ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ فروری میں روئٹرز نے اسرائیلی حکام اور دو فلسطینی تاجروں کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ مسعود اینڈ علی کمپنی نے رفح کے قریب اسرائیلی فوج کے کنٹرول والے علاقوں میں لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کو بسانے کے لیے اماراتی فنڈز سے رہائشی بلاک کی تعمیر کا معاہدہ کیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan