Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

قابض فوج کی کارروائی، جنین میں زکوٰۃ کمیٹی کا ہیڈکوارٹر سیل

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج نے مقبوضہ مغربی کناروں کے شمالی شہر جنین میں جنین مرکزی زکوۃ کمیٹی کے ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بولا اور وہاں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کرنے اور کچھ سامان ضبط کرنے کے بعد اسے بند کر دیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ قابض اسرائیل کی افواج نے ہیڈ کوارٹر پر چھاپہ مارا اور دفتر کے اندرونی سامان اور کھڑکیوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا۔

کمیٹی کے سربراہ سمیر السوقی نے کہا کہ ملازمین صبح جب اپنے کام کی جگہ پر پہنچے تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ دفتر کو تالے لگا کر بند کر دیا گیا ہے اور اس کے دروازوں پر عربی اور انگریزی زبانوں میں نوٹس چسپاں ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کمیٹی “دہشت گردی کی پشت پناہی” کرتی ہے اور قابض اسرائیل کی فوج کی طرف سے اسے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جیسا کہ الجزیرہ براہ راست نے رپورٹ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملازمین صبح ساڑھے آٹھ بجے کے قریب دفتر پہنچے تھے، جس کے بعد ان پر یہ بات واضح ہوئی کہ قابض اسرائیل کی افواج نے ہیڈ کوارٹر کو سیل کر کے وہاں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

یہ سفاکانہ اقدام قابض اسرائیل کی فوج کی جانب سے مقبوضہ مغربی کناروں کے جنوبی حصے میں واقع الخلیل گورنری میں فلاحی اداروں اور کمیٹیوں کے دفاتر کو بند کیے جانے کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا ہے۔

گذشتہ 15 اپریل سنہ 2024ء کو قابض اسرائیل کی افواج نے الخلیل شہر کے کئی علاقوں پر دھاوا بولا تھا اور شہر کے مغرب میں واقع قصبے اذنا میں زکوۃ کمیٹی کے دفتر میں گھس کر وہاں توڑ پھوڑ کرنے کے بعد اسے زبردستی بند کر دیا تھا۔

جنین میں زکوۃ کمیٹی کے سربراہ نے بتایا کہ کمیٹی گذشتہ چند دنوں کے دوران عید الاضحیٰ کی آمد کے پیش نظر گورنری کے غریب، ضرورت مند خاندانوں اور یتیموں کو انسانی امداد فراہم کرنے کی تیاریاں کر رہی تھی، انہوں نے اشارہ کیا کہ روزانہ دجنوں شہری امداد کی درخواست کے لیے یا قربانی کے گوشت اور عید کے کپڑوں کے اپنے حصوں کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کے لیے ہیڈ کوارٹر کا رخ کر رہے تھے۔

السوقی نے مزید کہا کہ جنین گورنری شدید معاشی مشکلات اور غربت کی بلند شرح کا شکار ہے، جس کی وجہ سے بہت سے خاندانوں کا انحصار زکوۃ کمیٹی کی طرف سے فراہم کی جانے والی امداد پر بڑھ گیا ہے، انہوں نے وضاحت کی کہ کمیٹی اپنے ہیڈ کوارٹر کو اچانک بند کیے جانے سے پہلے امداد سے مستفید ہونے والوں کی تعداد کا تعین کرنے پر کام کر رہی تھی۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ کمیٹی کے عملے میں سے کوئی بھی اب تک نقصان کی حد یا ضبط کیے گئے مواد کی نوعیت جاننے کے لیے ہیڈ کوارٹر کے اندر داخل نہیں ہو سکا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ عمارت کے دالان اور سیڑھیوں پر تباہی کے آثار بالکل نمایاں تھے۔

جنین زکوۃ کمیٹی کے سربراہ نے وضاحت کی کہ وہاں کاغذات اور دیگر سامان بکھرا ہوا تھا، اس کے علاوہ کرسیوں، برقی آلات، فوٹو کاپی مشینوں اور کمپیوٹرز کا ملبہ پڑا تھا، انہوں نے بتایا کہ کچھ آلات کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا یا انہیں کسی نامعلوم جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کناروں کے شہروں اور قصبوں میں اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ کے آغاز کے بعد سے قابض اسرائیل کی فوج کی جانب سے دھاووں، چھاپوں اور دفاتر کو زبردستی بند کرنے کے واقعات میں شدید تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

فلسطینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت سے لے کر اب تک مقبوضہ مغربی کناروں میں قابض اسرائیل کی فوج اور یہودی آباد کاروں کے حملوں کے نتیجے میں 1162 فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، 12 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ لگ بھگ 23 ہزار شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan