غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحری مزاحمت’حماس’ نے کہا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری کے بعد غاصب صہیونی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر کی نگرانی میں ان پر ڈھائے جانے والے تشدد اور تذلیل کے مناظر اس اخلاقی پستی اور درندگی کی عکاس ہیں جو قابض اسرائیل کے رہنماؤں کے دلوں پر مسلط ہے۔
حماس نے ایک پریس بیان میں مزید کہا کہ یہ سب کچھ فلسطینیوں پر عائد غزہ کی پٹی کے ظالمانہ محاصرے کو توڑنے کے لیے ان عالمی کارکنوں کے انسانی اور عظیم کردار کو روکنے اور ان کے عزم کو توڑنے کی ایک ناکام کوشش کے تحت کیا جا رہا ہے۔
حماس نے قابض حکام اور ان کی مجرم قیادت کو گرفتار کارکنوں کی سلامتی کا مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ جماعت نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان جرائم اور خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دیں اور غاصب صہیونی رہنماؤں کے احتساب کے لیے عالمی فوجداری عدالت میں فوری شکایات دائر کریں۔ حماس کا کہنا ہے کہ یہ بہیمانہ سلوک جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
تحریک نے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کرنے والے ان بین الاقوامی کارکنوں کی شجاعت اور قربانیوں کو زبردست الفاظ میں سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر کے غیور اور زندہ ضمیر انسان غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے اپنی انسانی کوششیں جاری رکھیں تاکہ غاصب دشمن کی سفاکیت اور اس کے جرائم کو بے نقاب کیا جا سکے اور اس محاصرے و قبضے کے خاتمے کے لیے ایک مضبوط عالمی محاذ قائم کیا جا سکے۔
