غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی سخت ترین پابندیوں کے درمیان گذشتہ بدھ کی شام خواتین اور بچوں سمیت 46 شہری مصر کے ساتھ ملحقہ رفح سرحدی کراسنگ کے ذریعے غزہ پہنچ گئے۔
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے ذرائع نے بتایا کہ 46 فلسطینی غزہ کے جنوب میں واقع شہر خانیونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس پہنچ گئے ہیں جن میں وہ مریض بھی شامل ہیں جو بیرون ملک زیر علاج تھے۔
فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کے مطابق گذشتہ بدھ کو رفح کراسنگ کے ذریعے 47 فلسطینی (17 مریض اور 30 تیماردار) غزہ سے روانہ ہوئے۔
رواں ماہ 2 فروری کو قابض اسرائیل نے کراسنگ کے فلسطینی حصے کو انتہائی محدود پیمانے اور سخت ترین شرائط کے ساتھ دوبارہ کھولا تھا جس پر وہ مئی سنہ 2024ء سے قابض ہے۔
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے گذشتہ بدھ کو اعلان کیا تھا کہ کراسنگ کے دوبارہ کھلنے سے گذشتہ منگل تک 1800 مسافروں میں سے صرف 488 افراد ہی رفح کراسنگ کے ذریعے آمد و رفت کر سکے ہیں جو کہ قابض اسرائیل کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد کی تقریباً صرف 27 فیصد شرح کو ظاہر کرتا ہے۔
میڈیا آفس نے ذکر کیا کہ اس مدت کے دوران 275 مسافر سے باہر جانے میں کامیاب ہوئے جبکہ 213 واپس پہنچے اور 26 افراد کو مصر جانے سے روک دیا گیا۔
مصری اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق توقع کی جا رہی تھی کہ روزانہ 150 فلسطینی غزہ میں داخل ہوں گے اور اتنی ہی تعداد میں مریض اور تیماردار مصر جائیں گے لیکن آج تک ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔
غزہ میں فلسطینی تخمینوں کے مطابق قابض اسرائیل کی جانب سے جاری نسل کشی کی جنگ کے نتیجے میں تباہ حال طبی صورتحال کے باعث 22 ہزار زخمیوں اور مریضوں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر جانے کی اشد ضرورت ہے۔
نیم سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تقریباً 80 ہزار فلسطینیوں نے غزہ واپسی کے لیے اپنے نام درج کرائے ہیں جو فلسطینیوں کے اس عزم کا واضح اظہار ہے کہ وہ قابض اسرائیل کی جانب سے مچائی گئی تباہی کے باوجود اپنی زمین سے وابستہ رہنے اور جبری ہجرت کو مسترد کرتے ہوئے واپسی پر بضد ہیں۔
قابض اسرائیل کی نسل کشی کی اس جنگ سے قبل روزانہ سینکڑوں فلسطینی کراسنگ کے ذریعے مصر روانہ ہوتے تھے اور سینکڑوں دیگر واپس قطاع آتے تھے اور کراسنگ کا انتظام , غزہ میں وزارت داخلہ اور مصری حکام کے ہاتھ میں تھا جس میں قابض اسرائیل کی کوئی مداخلت نہیں تھی۔
سیز فائر معاہدے کے پہلے مرحلے میں جس کا آغاز 10 اکتوبرسنہ 2025ء کو ہوا تھا قابض اسرائیل کے لیے کراسنگ کو دوبارہ کھولنا لازمی تھا لیکن اس نے اس سے پہلو تہی کی۔
قابض اسرائیل کی جانب سے آٹھ اکتوبر غزہ پر سنہ 2023ء کو شروع کی گئی نسل کشی کی جنگ نے دو سال کے دوران 72 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور 1 لاکھ 71 ہزار سے زائد کو زخمی کر دیا ہے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے جبکہ شہری انفراسٹرکچر کا 90 فیصد حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔
