Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

350 فلسطینی کمسن قیدی اسرائیلی جیلوں میں پابندِ سلاسل

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) انسانی حقوق کے ایک نے فلسطینی بچوں کی گرفتاری کی صہیونی پالیسی میں خطرناک اضافے پر شدید خبردار کیا ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ طبقے کے خلاف قابض اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی بدترین خلاف ورزیوں میں سے ایک قرار دیا ہے کیونکہ اس پالیسی کے تحت کم عمر بچوں کو براہ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے ان کی جسمانی اور نفسیاتی حالت پر طویل المدتی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جو ان کے تعلیمی اور سماجی مستقبل کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

کلب برائے اسیران کے دفاع کے لیے قائم فلسطینی مرکز نے اپنے بیان میں بتایا کہ قابض اسرائیلی حکام ہر سال سیکڑوں فلسطینی بچوں کو گرفتار کرتے ہیں جبکہ اس وقت قابض اسرائیل کی جیلوں میں قید بچوں کی تعداد 350 سے تجاوز کر چکی ہے جن کی اکثریت مغربی کنارے سے تعلق رکھتی ہے اس کے ساتھ القدس گورنری کے بچے بھی شامل ہیں جبکہ غزہ سے تعلق رکھنے والے بچوں کی گرفتاری کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں بالخصوص فوجی جارحیت کے ادوار میں۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ بچوں کی گرفتاری کی زیادہ تر کارروائیاں رات کے وقت گھروں پر چھاپوں کے دوران کی جاتی ہیں جن میں پرتشدد دھاوے بولے جاتے ہیں بچوں اور ان کے اہل خانہ میں خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے اس کے بعد بچے کو باندھ کر آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے اور تفتیشی مراکز میں منتقل کیا جاتا ہے جو بچوں سے متعلق قانونی ضمانتوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

مرکز کے مطابق مغربی کنارے میں گرفتار کیے گئے زیادہ تر بچوں کو قابض اسرائیل کی فوجی عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے جہاں ایک ایسا عدالتی نظام مسلط ہے جو کم عمر افراد کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی منصفانہ سماعت کے تقاضے پورے کرتا ہے جبکہ القدس گورنری میں قابض حکام گھریلو قید بے دخلی اور بھاری جرمانے عائد کرتے ہیں جس کے نتیجے میں بچے کی زندگی مستقل نگرانی اور پابندیوں کا شکار ہو جاتی ہے اور اس کے خاندان پر شدید نفسیاتی اور مالی دباؤ مسلط ہو جاتا ہے۔

غزہ کے حوالے سے مرکز نے کہا کہ جنگ اور محاصرے کے باعث مکمل دستاویزات اکٹھی کرنا مشکل ہے تاہم انسانی حقوق کی اقوام متحدہ کی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ فوجی کارروائیوں کے دوران بچوں کو گرفتار کیا گیا اور انہیں نہایت کٹھن حالات میں حراست میں رکھا گیا بعد ازاں بعض بچوں کو رہا کیا گیا لیکن ان کے بیانات میں بدسلوکی خوراک سے محرومی اور طبی نگہداشت کے فقدان کی سنگین شکایات سامنے آئیں۔

مرکز نے بچوں کے ساتھ تفتیش کے ظالمانہ طریقوں پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ بچوں سے طویل گھنٹوں تک دباؤ والی فضا میں پوچھ گچھ کی جاتی ہے اس دوران نہ والدین موجود ہوتے ہیں اور نہ ہی وکیل انہیں دھمکیوں اور خوف کے ذریعے اعترافات پر مجبور کیا جاتا ہے جبکہ بہت سے بچوں کو ایسی تحریری دستاویزات پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے جن کی زبان وہ سمجھ ہی نہیں پاتے بعد میں انہی اعترافات کو سزا کی بنیاد بنایا جاتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بچوں کی حراست کے حالات انسانی معیار کے ادنیٰ درجے پر بھی پورا نہیں اترتے جہاں شدید بھیڑ ،ناقص خوراک ،طبی غفلت اور تعلیم سے محرومی عام ہے جس کے نتیجے میں بچوں کو گہرے نفسیاتی صدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں شدید خوف، بے چینی اور سماجی تنہائی شامل ہیں جو رہائی کے بعد بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔

مرکز نے بعض دستاویزی کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ شمالی رام اللہ کے سلواد سے تعلق رکھنے والے پندرہ سالہ لڑکے محمد زاہر ابراہیم کو رات کے وقت اس کے گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا اور طویل عرصے تک حراست میں رکھا گیا۔ اس دوران اس کی صحت اور نفسی حالت بگڑنے کی شکایات سامنے آئیں اسی طرح القدس گورنری سے تعلق رکھنے والی بارہ سالہ بچی تُقیٰ غزاوی کو بھی گرفتار کیا گیا بعد ازاں اسے سخت شرائط کے تحت رہا کیا گیا جن میں گھریلو قید بے دخلی اور بھاری جرمانہ شامل تھا۔

مرکز نے زور دیا کہ یہ تمام اقدامات بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن اور چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہیں جو بچوں کی من مانی گرفتاری اور مقبوضہ علاقوں سے ان کی منتقلی کی ممانعت کرتے ہیں اور قابض طاقت کو پابند بناتے ہیں کہ وہ تنازع کے دوران بچوں کو خصوصی تحفظ فراہم کرے۔

بیان کے اختتام پر فلسطینی مرکز برائے دفاع اسیران نے بتایا کہ قابض اسرائیل اس وقت 27 سے زائد جیلوں اور حراستی و تفتیشی مراکز میں تقریباً 9300 فلسطینیوں کو قید کیے ہوئے ہے جن میں 51 اسیر خواتین اور قریباً 350 بچے شامل ہیں مرکز نے ایک بار پھر فلسطینی بچوں کے لیے فوری عالمی تحفظ فراہم کرنے ان کی گرفتاری اور عدالتی کارروائیوں کو بند کرنے تمام ناجائز طور پر قید بچوں کی رہائی یقینی بنانے اور ان کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا محاسبہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan