غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) نے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں 33 ہزار سے زائد فلسطینی مہاجرین نے مسلسل دوسرے سال ماہِ رمضان اور عید الفطر اپنے گھروں سے دور انتہائی کٹھن انسانی حالات اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں قابض اسرائیل کے آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی سفاکیت کے سائے میں گزاری۔
مغربی کنارے میں انروا کے ڈائریکٹر رولینڈ فریڈریک نے ایک پریس بیان میں کہا کہ بغیر کسی جوابدہی کے آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے مہلک نتائج برآمد ہوئے ہیں اور ان حملوں نے فلسطینی بستیوں کی جبری بے دخلی کے عمل کو تیز کر دیا ہے خاص طور پر ان علاقوں میں جنہیں ایریا (سی) کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے جہاں مہاجرین کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔
رولینڈ فریڈریک نے وضاحت کی کہ ہزاروں مہاجرین نے یہ مبارک موقع اپنے گھروں سے دور جنین، طولکرم اور نور شمس کے کیمپوں میں گزارا جہاں نقل و حرکت پر عائد کی گئی قابض اسرائیل کی سخت پابندیوں نے انہیں اپنے عزیز و اقارب سے ملنے یا مقدس مقامات پر مذہبی شعائر کی ادائیگی سے روکے رکھا۔
انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ انروا نے اپنے شراکت داروں کے تعاون سے اپنی انسانی خدمات کی فراہمی جاری رکھی جہاں رمضان المبارک کے دوران امداد کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ہزاروں انتہائی ضرورت مند خاندانوں کو انسانی ہمدردی کے شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے نقد رقم اور خوراک کی صورت میں امداد فراہم کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے 5400 سے زائد خاندانوں نے اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے سوشل سیفٹی نیٹ کی ادائیگیوں سے فائدہ اٹھایا جبکہ جنین، طولکرم اور نور شمس کے کیمپوں سے بے گھر ہونے والے 7900 سے زائد خاندانوں کو مسلسل نقل مکانی کے تلخ اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہنگامی امداد فراہم کی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ غزہ کے 5400 سے زائد مزدوروں کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں پھنسے ہوئے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو رہائش، خوراک، آمد و رفت اور صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کثیر المقاصد نقد امداد فراہم کی گئی۔
