Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

24 لاکھ فلسطینی عید پر سنگین انسانی المیے کا شکار

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں 24 لاکھ سے زائد فلسطینی ایک ایسے وقت میں عید الفطر کا استقبال کر رہے ہیں جب انسانی حالات بدترین اور غیر معمولی تباہی کا شکار ہیں۔ سرکاری میڈیا آفس کے مطابق مسلسل حصار اور بنیادی زندگی کے اجزاء کے مکمل خاتمے نے عوامی مصائب کو انتہا پر پہنچا دیا ہے۔

میڈیا آفس نے اپنی پریس رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ اس سال عید خوشیوں کے بجائے وسیع پیمانے پر پھیلی تباہی اور جبری ہجرت کے زخموں کے ساتھ آئی ہے۔ خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت اور منظم فاقہ کشی کی پالیسی کے باعث فلسطینی خاندان اپنی بنیادی ضرورتیں اور بچوں کے لیے عید کا سامان خریدنے سے بھی قاصر ہیں۔

جنگ بندی معاہدے کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیاں

سرکاری حکام نے 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے نفاذ سے لے کر 18 مارچ سنہ 2026ء تک قابض اسرائیل کی جانب سے مجموعی طور پر 2,073 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی ہیں۔ ان میں فائرنگ کے 750 واقعات، رہائشی علاقوں میں فوجی گاڑیوں کی 87 دراندازیاں، بمباری اور نشانہ بنانے کے 973 واقعات جبکہ گھروں اور عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کی 263 کارروائیاں شامل ہیں۔

ان سفاکانہ خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اب تک 677 فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں جن میں 305 بچے، خواتین اور معمر افراد شامل ہیں۔ شہدا میں سے 99 فیصد عام شہری تھے جبکہ 1,813 افراد زخمی ہوئے جن میں سے اکثریت کا تعلق انہی کمزور طبقات سے ہے جنہیں سرحدی لکیروں سے دور ان کے گھروں اور محلوں میں نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ قابض اسرائیل نے رہائشی محلوں کے اندر سے 50 فلسطینیوں کو گرفتار کیا جنہیں سرحدی علاقوں سے دور ہونے کے باوجود اغوا کیا گیا۔

سفر اور امداد پر سخت پابندیاں

سفر اور نقل و حرکت کے حوالے سے بتایا گیا کہ 2 سے 28 فروری سنہ 2026ء کے درمیان رفح بارڈر سے 5,400 متوقع مسافروں کے مقابلے میں صرف 1,934 افراد سفر کر سکے جو کہ کل تعداد کا محض 35 فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے 1,075 افراد روانہ ہوئے جن میں اکثریت مریضوں اور ان کے تیمارداروں کی تھی جبکہ 859 افراد غزہ واپس آئے۔

امدادی سامان کے حوالے سے صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ 94,800 متوقع ٹرکوں کے مقابلے میں اب تک صرف 38,358 تجارتی، امدادی اور ایندھن کے ٹرک داخل ہوئے ہیں۔ امداد کی فراہمی میں التزام کی یہ شرح 40 فیصد سے بھی کم ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض اسرائیل بنیادی ضروریات کی فراہمی کے معاہدے پر عمل نہیں کر رہا۔

میڈیا آفس نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ رفح بارڈر کو بغیر کسی جواز کے دوبارہ بند کر دیا گیا ہے، جبکہ ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری، طبی سامان، ادویات اور پناہ گاہوں کے لیے ضروری سامان بشمول خیمے اور پورٹیبل گھر داخل کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ مزید برآں بجلی گھر کو بھی تاحال فعال نہیں کیا گیا ہے۔

انسانی المیے کی سنگینی پر انتباہ

میڈیا آفس نے ان خلاف ورزیوں کو جنگ بندی معاہدے سے خطرناک انحراف اور بھوک و پیاس کے ذریعے فلسطینیوں کو جھکانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں غزہ کی پٹی میں انسانی حالات کی مسلسل ابتری، جانی و مالی نقصانات اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی تمام تر ذمہ داری قابض اسرائیل پر عائد کی گئی ہے۔

رپورٹ کے آخر میں امریکہ، ثالثوں، ضامن ممالک، اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈال کر معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ شہریوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ امداد، ایندھن اور پناہ گاہوں کے سامان کی فوری اور محفوظ ترسیل ممکن ہو سکے اور غزہ کی پٹی میں بڑھتے ہوئے انسانی المیے کا راستہ روکا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan