مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر (اولڈ سٹی) میں واقع آرمینیائی چرچ کو اتوار کے روز انتہا پسند آباد کاروں کی جانب سے حملے کا نشانہ بنایا گیا، جہاں شرپسندوں نے چرچ کے داخلی راستے پر تھوک کر اپنی غلیظ ذہنیت کا مظاہرہ کیا۔
سکیورٹی کیمروں کی ریکارڈنگ اور عینی شاہدین کے بیانات سے واضح ہوا ہے کہ متعددیہودی آباد کاروں نے دانستہ طور پر چرچ کے مرکزی دروازے کے سامنے تھوکا، یہ قدم انتہائی اشتعال انگیز اور عبادت کی آزادی پر حملہ ہے جس کا مقصد مسیحی مقدسات کو نشانہ بنانا ہے۔
اسی تناظر میں مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرق میں واقع العیساویہ قصبے پر دھاوا بولا، جبکہ اسی دوران مسجد اقصی کے جنوب میں واقع سلوان قصبےکے محلہ البستان میں بھی جارحانہ کارروائی کی گئی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ قابض فوج کی گلیوں اور محلوں میں تعیناتی کے باعث مقامی شہریوں میں سخت اضطراب اور کشیدگی کی لہر دوڑ گئی۔
علاوہ ازیں قابض اسرائیلی بلدیہ نے سلوان قصبہ میں پوسٹ آفس کے مینیجر پر پانچ ہزار شیکل کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا، جس کا بہانہ “تمباکو نوشی منع ہے” کی تختی نہ ہونا بتایا گیا، حالانکہ وہ تختی دفتر کے اندر موجود تھی۔ اس کارروائی کو فلسطینی اداروں کے خلاف انتظامی دہشت گردی اور تنگ نظری پر مبنی پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
اسی سلسلے میں قابض فوج نے سلوان ہی کے محلہ عین اللوزہ میں تجارتی مراکز پر چھاپے مارے اور وہاں کام کرنے والے ملازمین کے شناختی کارڈز کی جانچ پڑتال کی، جس کے نتیجے میں تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئیں اور شہریوں کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچا۔
یہ حملے مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے باسیوں کے خلاف جاری ان منظم خلاف ورزیوں کا حصہ ہیں جن میں قابض اسرائیل اور اس کے انتہا پسند آباد کار آئے روز فلسطینی مقدسات اور محلوں کو نشانہ بنا کر فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کی جڑوں کو اکھاڑنے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین
مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر (اولڈ سٹی) میں واقع آرمینیائی چرچ کو اتوار کے روز انتہا پسند آباد کاروں کی جانب سے حملے کا نشانہ بنایا گیا، جہاں شرپسندوں نے چرچ کے داخلی راستے پر تھوک کر اپنی غلیظ ذہنیت کا مظاہرہ کیا۔
سکیورٹی کیمروں کی ریکارڈنگ اور عینی شاہدین کے بیانات سے واضح ہوا ہے کہ متعددیہودی آباد کاروں نے دانستہ طور پر چرچ کے مرکزی دروازے کے سامنے تھوکا، یہ قدم انتہائی اشتعال انگیز اور عبادت کی آزادی پر حملہ ہے جس کا مقصد مسیحی مقدسات کو نشانہ بنانا ہے۔
اسی تناظر میں مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرق میں واقع العیساویہ قصبے پر دھاوا بولا، جبکہ اسی دوران مسجد اقصی کے جنوب میں واقع سلوان قصبےکے محلہ البستان میں بھی جارحانہ کارروائی کی گئی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ قابض فوج کی گلیوں اور محلوں میں تعیناتی کے باعث مقامی شہریوں میں سخت اضطراب اور کشیدگی کی لہر دوڑ گئی۔
علاوہ ازیں قابض اسرائیلی بلدیہ نے سلوان قصبہ میں پوسٹ آفس کے مینیجر پر پانچ ہزار شیکل کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا، جس کا بہانہ “تمباکو نوشی منع ہے” کی تختی نہ ہونا بتایا گیا، حالانکہ وہ تختی دفتر کے اندر موجود تھی۔ اس کارروائی کو فلسطینی اداروں کے خلاف انتظامی دہشت گردی اور تنگ نظری پر مبنی پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
اسی سلسلے میں قابض فوج نے سلوان ہی کے محلہ عین اللوزہ میں تجارتی مراکز پر چھاپے مارے اور وہاں کام کرنے والے ملازمین کے شناختی کارڈز کی جانچ پڑتال کی، جس کے نتیجے میں تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئیں اور شہریوں کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچا۔
یہ حملے مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے باسیوں کے خلاف جاری ان منظم خلاف ورزیوں کا حصہ ہیں جن میں قابض اسرائیل اور اس کے انتہا پسند آباد کار آئے روز فلسطینی مقدسات اور محلوں کو نشانہ بنا کر فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کی جڑوں کو اکھاڑنے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہیں۔
