یروشلم – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یروشلم، فلسطین اور اردن کے لیے یونانی آرتھوڈوکس کلیسا کے بطریق تھیوفیلوس سوم نے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے حملوں میں خطرناک اضافے سے خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے کے دوران ان حملوں نے متعدد فلسطینی قصبوں اور دیہات کو نشانہ بنایا، جن میں الطیبہ اور بیرزیت شامل ہیں۔
بطریق نے بیت ساحور شہر کے اطراف تیزی سے بڑھتی ہوئی یہودی بستیوں کی توسیع پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ اس کے خطے میں فلسطینی اور مسیحی موجودگی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ بیانات انہوں نے یروشلم میں واقع یونانی آرتھوڈوکس بطریقہ کے صدر دفتر میں قونصل جنرلز اور سفارتی عملے کے ارکان سے ملاقات کے دوران دیے۔ اس موقع پر کونسل آف پیٹریارکس اور یروشلم کی کلیساؤں کے سربراہان کے نمائندے اور کلیسائی اداروں کے ذمہ داران بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران بطریق تھیوفیلوس نے مقدس سرزمین اور اس کے باشندوں کے حوالے سے عالمی برادری پر عائد فوری اخلاقی ذمہ داریوں پر گفتگو کی۔ انہوں نے فلسطینیوں کو درپیش بھاری انسانی قیمت کو اجاگر کیا، خاص طور پر غزہ پٹی کا حوالہ دیتے ہوئے جہاں شہری آبادی بدستور تباہی اور محرومی کا سامنا کر رہی ہے۔
بطریق نے غزہ کے اپنے پادری دورے کو بھی یاد کیا جو انہوں نے لاطینی بطریق کارڈینل پیئربتیستا پیتسابالا کے ہمراہ کیا تھا، اور ان کلیسائی اداروں کی ثابت قدمی کو سراہا جو سخت حالات کے باوجود اپنی خدمات اور دیکھ بھال کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے تعمیر نو کی کوششوں میں سنجیدہ بین الاقوامی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا اور بڑھتے ہوئے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے مذاہب کے مابین مشترکہ ذمہ داری کے اصول کو مضبوط بنانے کی ضرورت اجاگر کی۔
بطریق تھیوفیلوس نے کہا کہ“کلیسا انسانی درد سے منہ نہیں موڑ سکتی۔ ہمارا رب ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم انسان کے لیے جو کرتے ہیں وہ خدا کے لیے کرتے ہیں۔ یہی حقیقت اس سرزمین میں ہماری موجودگی اور ہمارے فرض کی ادائیگی کی رہنمائی کرتی ہے۔”
انہوں نے یروشلم میں مذہبی عبادات کی آزادی پر عائد پابندیوں کا بھی ذکر کیا، جن میں سبت النور اور ہفتۂ آلام کی تقریبات کے دوران سخت اقدامات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدس مقامات تک رسائی دو ہزار برس سے ایک مستحکم حق ہے اور موجودہ انتظامات کے تحت اس کی ضمانت دی گئی ہے۔
بطریق نے نمازیوں کی تعداد پر سخت پابندیوں، روایتی اسکاؤٹ گروپس کی شرکت میں رکاوٹوں اور فوجی نوعیت کے اقدامات کو انسانی وقار اور مذہبی آزادی کی ناقابل قبول خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ غزہ میں کینسر کے مرض میں مبتلا بچوں کو علاج کے لیے یروشلم کے آگسٹا وکٹوریہ ہسپتال تک رسائی دینے کے لیے فوری انسانی راہداری کھولی جائے۔
اسی طرح انہوں نے یروشلم کے سکولوں میں اساتذہ اور بنیادی عملے کو درپیش اجازت ناموں کی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا، کیونکہ اس کے تعلیمی عمل اور روزگار پر براہِ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
بطریق تھیوفیلوس نے اپنے بیان کے اختتام پر کلیسا کے بنیادی پیغام کو دہراتے ہوئے کہا کہ “ہماری رسالت شفا ہے، جسموں کی شفا اور روحوں کی شفا، اور اس وقار کا تحفظ جو خدا نے ہر انسان کو عطا کیا ہے”۔
