تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مسئلۂ کشمیر برصغیر کا ایک دیرینہ، پیچیدہ اور حساس تنازعہ ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو متاثر کر رہا ہے بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک اہم حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مسئلہ محض جغرافیائی یا سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ ایک ایسی انسانی، سیاسی اور اخلاقی جدوجہد ہے جس کا تعلق حقِ خودارادیت، آزادی، اور بنیادی انسانی حقوق سے ہے۔
برصغیر کی تقسیم1947ء میں برطانوی استعمار کے خاتمے کے ساتھ ہی برصغیر کو دو آزاد ریاستوں، پاکستان اور بھارت، میں تقسیم کیا گیا۔ اس تقسیم کا اصول یہ تھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں کو پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقوں کو بھارت میں شامل کیا جائے گا۔ ریاستِ جموں و کشمیر، جہاں مسلمانوں کی واضح اکثریت تھی، ایک خودمختار ریاست تھی جس کا حکمران مہاراجہ ہری سنگھ ہندو تھا۔ مہاراجہ نے عوامی خواہشات کے برخلاف تاخیری اور متنازع فیصلے کیے، جن کے نتیجے میں بھارتی فوجی مداخلت ہوئی اور کشمیر ایک مستقل تنازعہ بن گیا۔
یہاں پر اگر ہم برصغیر کی تقسیم کو اگر مشرقِ وسطیٰ کی تقسیم کے ساتھ دیکھیں تو ہمیں ایک واضح مماثلت نظرآتی ہے۔ سنہ 1916ء میں سائیکس پیکوٹ نے جس طرح خفیہ معاہدے میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کو برطانیہ اور فرانس کے لئے تقسیم کیا تھا اورفلسطین، عراق، شام اور دیگر علاقوں میں بھی نوآبادیاتی طاقتوں نے اپنے مفادات کے تحت سرحدیں کھینچیں تھیں، جس کے نتیجے میں دائمی تنازعات نے جنم لیا۔ ٹھیک اسی طرح جب انگریز کو بر صغیر سے نکلنا پڑا تو انہوںنے اس خطے میں یعنی برصغیر اور بالخصوص جنوبی ایشیاء میں ایک ایسا تنازعہ کھڑا کیا جس کے باعث آج تک اس خطے کا امن و سلامتی اور استحکام متاثر ہو رہاہے۔
انگریز یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ برصغیر میں چلنے والی آزادی کی جدوجہد ایک نہ ایک دن کامیاب ہو گی اور مسلمان اور ہندو قومیں علیحدہ وطن حاصل کریں گی۔ ایسے حالات میں کہ جہاں تقریبا 562ریاستیں وجود رکھتی تھیں جن کو نواب اور راجہ مہاراجہ چلایا کرتے تھے۔ ان پانچ سو سے زائد ریاستوں کو انگریز کے منصوبہ کے تحت ہر کسی کو ایک الگ ملک کے طور پر رکھنا تھا تا کہ بر صغیر میں یہ سب کے سب آپس میں گتھم گتھا رہیں اور استعماری طاقتیں یہاں سے جانے کے بعد بھی دور سے بیٹھ کو ان کو کنٹرول کریں۔یہی منصوبہ سائیکس پیکوٹ نے مشرق وسظی کے لئے بھی ترتیب دیا تھا اور بعد ازں ایک بڑی تقسیم کے ساتھ ساتھ ایک ناجائز ریاست اسرائیل کو بھی وجود دیا گیاجو آج تک مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔برطانوی استعمار نے جس طرح فلسطین میں عوام کی خواہشات کو نظرانداز کیا، اسی طرح کشمیر میں بھی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو طاقت کے ذریعے دبایا گیا۔ اقوامِ متحدہ نے کشمیر میں استصوابِ رائے کی قراردادیں منظور کیں، مگر آج تک ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔
کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے اپنی شناخت، آزادی اور حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ جدوجہد مختلف مراحل سے گزری ہے۔سیاسی تحریکوں سے لے کر عوامی احتجاج اور مزاحمت تک۔ کشمیری عوام نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں، مگر ان کی آواز کو طاقت، قوانین اور بندوق کے زور پر دبایا جاتا رہا۔آج فلسطین کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ فلسطین کی قسمت کا فیصلہ فلسطینیوں کو کرنے دیا جائے۔ لیکن نام نہاد امن بورڈ بنا کر فلسطین کے عوام کے حق خودارادیت پر قد غن لگائی جا رہی ہے۔
کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین بڑی جنگوں اور بے شمار سرحدی جھڑپوں کی بنیادی وجہ رہا ہے۔ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں، جس کی وجہ سے یہ تنازعہ عالمی امن کے لیے بھی ایک مستقل خطرہ بن چکا ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کرتا رہا ہے، جبکہ بھارت کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دے کر عالمی دباؤ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔کشمیری عوام کو درپیش مسائل اور جبرمقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کو شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اجتماعی قبریں، کرفیو، انٹرنیٹ بندش، سیاسی قیادت کی گرفتاریاں اور
اظہارِ رائے پر پابندیاں معمول بن چکی ہیں۔
خصوصی قوانین کے تحت بھارتی فوج کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں، جن کے نتیجے میں عام شہری عدم تحفظ اور خوف کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خواتین، بچے اور بزرگ سب اس جبر کا شکار ہیں۔
چند سال قبل ہندوستان کی حکومت نے آرٹیکل 370اور 35Aکو بھی ختم کر دیا ہے جس کے بعد اب باقاعدہ منصوبہ بندی کےتحت کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کر کے کشمیر کے خصوصی مقام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہےاور پاکستان اور ہندوستان دونوں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ہندوستان حکومت کی ہٹ دھرمی اور بدمعاشی ہے کہ وہ کشمیر میں اپنی من مانی کرنے کے لئے اپنے ہی آئین سے آرٹیکلز کو ختم کر چکی ہے۔
مسئلۂ کشمیر صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ جب تک کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت نہیں دیا جاتا، تب تک یہ تنازعہ خطے کے امن کے لیے خطرہ بنا رہے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے ذریعے کسی قوم کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیر کا مستقبل کشمیری عوام کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، اور یہی ایک منصفانہ، پائیدار اور دیرپا حل کی بنیاد ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مورخہ 13اگست 1948اور 5جنوری 1949کی قرار دادیں واضح طور پر کہتی ہیں کہ کشمیر کے عوام کو پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کے لئے آزادانہ رائے شماری کرنے دی جائے تا کہ حق خود ارادیت کے استعمال سے کشمیر کے عوام اپنی قسمت اور مستقبل کا فیصلہ کریں لیکن ہندوستان کی حکومت ہٹ دھرم ہے جس نے کشمیر میں سات لاکھ سے زائد فوج مسلط کر رکھی ہے تا کہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت استعمال نہ کرنے دیا جائے۔
پاکستان بھر میں 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے جس کا مقصد نئی نسل کو مسئلہ کشمیر سے باخبر رکھنا اور نوجوان نسل کے درمیان اس مسئلہ کو زندہ رکھنا ۔یہ دن دراصل کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت، ان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور بھارتی مظالم کے خلاف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا دن ہے۔یہ دن اس عہد کی تجدید کا موقع ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا ہے اور رہے گا۔
یومِ یکجہتیٔ کشمیر مظلوم کشمیریوں کی آواز کو عالمی فورمز تک پہنچانے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی یاددہانی کرانے کا ذریعہ ہے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض علاقائی نہیں بلکہ انسانی حقوق اور انصاف کا عالمی مسئلہ ہے۔کشمیری عوام کی قربانیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ آزادی کی جدوجہد کو طاقت کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔