بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یورو میڈیٹرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ لبنان پر قابض اسرائیل کے جاری وسیع پیمانے پر حملے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں جن کی فوری بین الاقوامی تحقیقات ہونی چاہیے۔ انسانی حقوق کے ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ گذشتہ روز کی شدید بمباری کے نتیجے میں تقریباً 1300 لبنانی شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ درجنوں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ ان حملوں میں انتہائی تباہ کن ہتھیاروں کا اندھا دھند استعمال کیا گیا جو گنجان آباد شہری علاقوں میں بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مانیٹر کے مطابق قابض دشمن نے گھروں اور سماجی تقریبات کو نشانہ بنایا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض اسرائیل طاقت کا مجرمانہ استعمال کر رہا ہے۔
انسانی حقوق کے اس ادارے نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ یہ شدید بمباری امریکہ اور ایران کی شرکت سے ہونے والے سیز فائر کے اعلان کے فوراً بعد کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قابض اسرائیل امن کی ہر کوشش کو ناکام بنا کر خطے کو مزید تشدد کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب صہیونی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ کے 100 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے اسرائیلی غارت گری میں سینکڑوں معصوم شہریوں کی شہادت پر ملک بھر میں سوگ کا اعلان کیا ہے۔
