مقبوضہ ایلات – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یمن کی جماعت “انصار اللہ” نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے “ایلات” شہر میں قابض اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کارروائی یمن، ایران اور لبنان کی جانب سے کیے جانے والے ایک مشترکہ اور ہم آہنگ حملے کا حصہ ہے۔
جماعت سے وابستہ یمنی مسلح افواج نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایرانی پاسداران انقلاب اور لبنان کی اسلامی مزاحمت (حزب اللہ) کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ آپریشن انجام دیا ہے جس میں کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مقبوضہ فلسطین کے جنوب میں واقع شہر ام الرشراش (ایلات) کو نشانہ بنایا گیا۔
مسلح افواج نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ اس حملے میں شہر کے اندر قابض اسرائیل کے انتہائی اہم اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور یہ آپریشن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کارروائی ایران، لبنان، عراق اور فلسطین میں موجود “محورِ جہاد و مزاحمت” کی حمایت اور خطے میں قابض اسرائیل کے ناپاک منصوبوں کے مقابلے کے تناظر میں کی گئی ہے۔
دوسری جانب مقبوضہ فلسطین کے جنوبی علاقوں میں خطرے کے سائرن گونج اٹھے جبکہ قابض اسرائیل کے میڈیا نے ایک ایسے حملے کی اطلاع دی جو بیک وقت کئی محاذوں سے شروع کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ایلات کی فضائوں میں دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا تھا جبکہ شہر کے گردونواح میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
یمنی افواج کی جانب سے قابض اسرائیلی اہداف کے خلاف اعلان کردہ یہ چھٹی بڑی کارروائی ہے جو فوجی کشیدگی کے جواب میں کی گئی ہے۔
انصار اللہ نے پہلے ہی خبردار کر رکھا تھا کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو وہ خاموش نہیں رہیں گے اور مخصوص حالات میں براہ راست فوجی مداخلت کے لیے مکمل تیار ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسلسل 38ویں روز بھی فوجی تصادم جاری ہے اور دونوں جانب سے میزائل و ڈرون حملوں میں شدت کے ساتھ ساتھ علاقائی تناؤ کی حدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
