الخلیل – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے صہیونی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوب میں الخلیل کے علاقے مسافر یطا میں ایک فلسطینی بچے پر بہیمانہ تشدد کیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق صہیونی آبادکاروں نے مسافر یطا کے علاقے حوّارہ میں دھاوا بولا اور شہریوں کے گھروں کے اطراف اشتعال انگیز گشت کیا۔ اس دوران انہوں نے فلسطینی بچے محمود خلیل حمامدہ کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث وہ زخمی ہو گیا۔ بچے کو موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی کیونکہ اسے شدید چوٹیں آئی تھیں۔
اسی دوران صہیونی آبادکاروں کو تحفظ فراہم کرنے والی قابض اسرائیلی فوج نے ایک بزرگ فلسطینی شہری عادل الحمامدہ پر بھی دھاوا بولا اور اسے ہراساں کیا۔
ایک اور کارروائی میں صہیونی آبادکاروں نے مسافر یطا کے خربہ المرکز پر حملہ کیا اور اپنے مویشی فلسطینیوں کے گھروں کے آس پاس چھوڑ دیے جس کے نتیجے میں کھیتوں فصلوں اور شہری املاک کو شدید نقصان پہنچا۔
گذشتہ ماہ جنوری کے دوران قابض اسرائیل کی فورسز اور صہیونی آبادکاروں کی جانب سے حملوں میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں فلسطینی شہریوں ان کی زمینوں اور املاک کو نشانہ بناتے ہوئے 1872 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ یہ سب ایک منظم پالیسی کے تحت طاقت کے زور پر زمینی حقائق مسلط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیل کی فورسز نے 1404 حملے کیے جبکہ صہیونی آبادکاروں نے 468 حملوں میں حصہ لیا۔ ان حملوں کا مرکز الخلیل گورنری رہی جہاں 415 حملے ہوئے اس کے بعد رام اللہ اور البیرہ میں 374 نابلس میں 328 اور القدس میں 201 حملے ریکارڈ کیے گئے جو ان علاقوں میں فلسطینی وجود کو مٹانے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
