ایمسٹرڈیم – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں غزہ پر ہونے والے حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینی بچوں اور صحافیوں کی یاد منانے اور قابض اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کی مذمت کے لیے ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
وسطی ایمسٹرڈیم کے مشہور ڈیم سکوائر میں ازرع شجرہ زیتون وقف کی جانب سے ان فلسطینی بچوں اور صحافیوں کی یاد میں اس تقریب کا اہتمام کیا گیا جنہیں قابض اسرائیل نے غزہ میں سفاکیت کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کر دیا تھا۔
اس موقع پر ان صحافیوں کی تصاویر اور ناموں کی نمائش کی گئی جو اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے تاکہ دنیا کو ان کے خلاف کیے جانے والے جرائم سے آگاہ کیا جا سکے جبکہ چوک کے فرش پر ہزاروں کی تعداد میں بچوں کے جوتے رکھ کر ایک المناک منظر پیش کیا گیا۔
تقریب کے دوران ہالینڈ کے فنکاروں، اداکاروں اور پروڈیوسرز نے غزہ میں شہید ہونے والے بچوں کے نام اور ان کی عمریں ایک ایک کر کے پڑھ کر سنائیں۔
اس دوران رضاکاروں نے راہگیروں میں پمفلٹ بھی تقسیم کیے جن میں غزہ کی سنگین صورتحال کی وضاحت اور شعور بیدار کرنے کے لیے معلومات فراہم کی گئی تھیں۔
ازرع شجرہ زیتون وقف کی ڈائریکٹر ایستھر وان ڈیر موسٹ نے بتایا کہ فلسطینی بچوں کی یاد میں یہ تقریب سولہویں بار اور صحافیوں کے لیے چوتھی بار منعقد کی جا رہی ہے۔
وان ڈیر موسٹ نے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ جنوری سنہ 2024ء میں ایمسٹرڈیم میں ہونے والی تقریب میں 10 ہزار جوتے رکھے گئے تھے لیکن آج تک شہید ہونے والے بچوں کی تعداد بڑھ کر 20 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعداد بھی مکمل حقیقت کی عکاسی نہیں کرتی کیونکہ بہت سے بچے ایسے ہیں جو قابض صہیونی عقوبت خانوں میں غائب کر دیے گئے یا ملبے تلے دب گئے یا پھر مہلک ہتھیاروں کے استعمال سے ان کا نام و نشان مٹ گیا ہے۔
وان ڈیر موسٹ نے تقریب میں معروف شخصیات کی بڑی تعداد میں شرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ادیبوں، صحافیوں اور اداکاروں نے اپنی تقاریر کے دوران شہید ہونے والے تمام بچوں کے نام اور عمریں پڑھیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس منظر نے شرکا کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ زار و قطار رو پڑے، انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ ڈھائی برسوں کے دوران 313 صحافی قتل کیے جا چکے ہیں جو کہ بے مثال ناانصافی کی ایک اور کھلی مثال ہے۔
وان ڈیر موسٹ نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ صورتحال سیاست دانوں پر اثر انداز ہو گی اور قابض اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایک ایسی حکومت کے خلاف جو نسل کشی میں مصروف ہے، ہالینڈ کی حکومت کا ردعمل انتہائی کمزور ہے اور ان خلاف ورزیوں کو فوری طور پر رکنا چاہیے۔
دوسری جانب ہالینڈ کی معروف اداکارہ، گلوکارہ اور ٹی وی میزبان جورجینا فیربان نے کہا کہ انہوں نے اس تقریب میں فلسطینیوں بالخصوص بچوں کے دکھوں کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لیے شرکت کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں یہاں اس آواز کو پھیلانے کے لیے آئی ہوں اور شاید یہ ان لوگوں کو حرکت میں لانے کا سبب بنے جو تبدیلی لانے کی طاقت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ غزہ میں گذشتہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء سے سیز فائر معاہدہ نافذ ہونے کے باوجود قابض اسرائیل نے انسانی ہمدردی سے متعلق پروٹوکول کی پاسداری نہیں کی اور غذائی و طبی امداد کے ساتھ ساتھ جنریٹر چلانے کے لیے ایندھن اور تیل کی انتہائی معمولی مقدار ہی داخل ہونے دی ہے۔
یہ معاہدہ نسل کشی کی اس طویل جنگ کے دو سال بعد طے پایا تھا جس کا آغاز قابض اسرائیل نے امریکہ کی حمایت سے 8 اکتوبر سنہ 2023ء کو کیا تھا اور یہ مختلف شکلوں میں جاری رہی، جس کے نتیجے میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 72 ہزار سے زائد زخمی ہوئے جبکہ غزہ کا 90 فیصد سویلین انفراسٹرکچر تباہ کر دیا گیا۔
