Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

گویلی کی لاش کی برآمدگی کے بعد حماس کا جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کے آخری فوجی کی لاش کی تلاش کے معاملے میں بھرپور اور سنجیدہ کوششیں کیں اور مرحلہ وار ثالثوں کو ضروری معلومات فراہم کرتی رہی جس کے نتیجے میں قابض اسرائیل کو لاش تک پہنچنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

حماس نے پیر کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ قدم قومی ذمہ داری کے احساس اور طے پانے والے معاہدوں کی پاسداری کے تحت اٹھایا گیا اور یہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی تمام ذمہ داریوں کے حوالے سے مزاحمت کے مکمل پابندی کے دائرے میں آتا ہے۔

حماس نے زور دے کر کہا کہ اس نے معاہدے کے پہلے مرحلے میں شامل تمام ذمہ داریاں واضح اور ذمہ دارانہ انداز میں مکمل کیں اور اسیران اور لاشوں کے معاملے میں بھرپور تعاون کیا حالانکہ غزہ کی پٹی میں زمینی حالات نہایت پیچیدہ اور دشوار گزار ہیں۔

گذشتہ روز اتوار کو القسام بریگیڈز جو حماس کا عسکری ونگ ہے نے تصدیق کی کہ اس نے گویلی کی لاش کے مقام کے بارے میں ثالثوں کو معلومات فراہم کیں اور اسیران اور لاشوں کے معاملے میں شفافیت کے اپنے عزم کو دہرایا جبکہ عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ جنگ بندی معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کرایا جا سکے۔

دوسری جانب حماس نے قابض اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی تمام شقوں پر بغیر کسی کمی اور ٹال مٹول کے مکمل عمل کرے اور اس پر عائد تمام ذمہ داریوں کو پورا کرے جن میں سرِفہرست رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں سے بغیر کسی پابندی کے کھولنا اور غزہ کی پٹی کی ضروریات کو مطلوبہ مقدار میں داخل ہونے کی اجازت دینا اور کسی بھی شے پر عائد پابندی کو ختم کرنا شامل ہے۔

حماس نے غزہ کی پٹی سے مکمل انخلا کا بھی مطالبہ کیا اور قومی کمیٹی برائے انتظامِی امور غزہ کے کام کو سہل بنانے پر زور دیا کیونکہ یہ تمام امور معاہدے میں درج بنیادی ذمہ داریوں کا حصہ ہیں۔

حماس نے جنگ بندی معاہدے کی ضامن ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور ان تمام شقوں کے نفاذ کو یقینی بنائیں جنہیں قابض اسرائیل جان بوجھ کر معطل کیے ہوئے ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی فوجی کی لاش کی برآمدگی اس بہانے کا خاتمہ کرتی ہے جسے قابض اسرائیل معاہدے پر عمل درآمد میں تاخیر کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔

حماس کا یہ بیان اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں قابض اسرائیل نے مشرقی غزہ شہر میں وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائیوں کے بعد اسرائیلی فوجی ران گویلی کی لاش ملنے کا دعویٰ کیا جن کے دوران سیکڑوں قبروں کی بے حرمتی کی گئی۔ اس اقدام پر انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی اور اسے فلسطینی قبروں اور مردوں کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

فوجی اور لاشوں کا یہ معاملہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز اور رفح کراسنگ کی دوبارہ بحالی سے جڑا ہوا ہے جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی دباؤ بھی موجود ہے تاکہ دونوں فریق معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل کریں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan