تیونس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) تونس میں گلوبل صمود فلوٹیلا کے متعدد اراکین نے تعمیرِ نو کی کوششوں کی حمایت کے لیے غزہ کی پٹی کی جانب ایک نئے زمینی قافلے اور بحری بیڑے کے جلد آغاز کا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود تیاریاں مسلسل جاری ہیں۔
ان خیالات کا اظہار دارالحکومت تونس میں ایک احتجاجی مارچ کے دوران کیا گیا جہاں شرکاء نے فلوٹیلا کے سات زیرِ حراست کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کارکنوں کی اصل جگہ سلاخوں کے پیچھے نہیں بلکہ ان کے ساتھ ہے تاکہ وہ آئندہ کی یکجہتی مہمات کی تیاریوں میں حصہ لے سکیں۔
اس تناظر میں تونس کی پارلیمنٹ کے رکن محمد علی، جو کہ پہلے گلوبل صمود فلوٹیلا کے شرکاء میں شامل رہے ہیں، نے بتایا کہ ارکانِ پارلیمنٹ کا ایک گروپ آئندہ ہفتے ایک نئی ہنگامی درخواست پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی استواری (تطبیع) کو جرم قرار دینے والے قانون کی منظوری کے لیے جنرل باڈی کا وہ اجلاس مکمل کیا جا سکے جو سنہ 2023ء سے معطل ہے۔
دوسری جانب فلوٹیلا کے رکن مہاب السنوسی نے وضاحت کی کہ بحری بیڑے کی روانگی 12 اپریل کو اسپین سے طے پائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تونس سے تقریباً 340 شرکاء نے درخواستیں دی ہیں تاہم ویزوں سے متعلق پیچیدگیاں اب بھی انتظامات کی تکمیل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
مہاب السنوسی نے مزید کہا کہ اس اقدام کو تضحیک اور رکاوٹیں ڈالنے کی مہم کا سامنا ہے، مگر انہوں نے یقین دلایا کہ یہ بیڑہ غزہ کی حمایت کے لیے اپنے مقررہ وقت پر ہی روانہ ہوگا۔
فلوٹیلا کے ایک اور رکن صلاح الدین المصری نے کہا کہ بحیرہ روم مزاحمت کا میدان ہے، اسرائیل سے تعلقات کی استواری کا نہیں، انہوں نے فلسطینی کاز کی حمایت کے لیے عوامی تحریکیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا اور ایک نئے زمینی قافلے کے آغاز کا انکشاف کیا، تاہم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر فی الوقت اس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل 9 جون گذشتہ کو تونس سے ایک زمینی قافلہ تقریباً ایک ہزار کارکنوں کے ساتھ روانہ ہوا تھا، لیکن اسے جنرل خلیفہ حفتر کی وفادار لیبیائی فورسز نے روک کر مصر پہنچنے سے منع کر دیا تھا۔
دریں اثنا، تونس کے ارکانِ پارلیمنٹ نے اسرائیل سے تعلقات کو جرم قرار دینے والے مسودہ قانون پر دوبارہ بحث شروع کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں، جو کہ سنہ 2023ء سے دو شقوں کی منظوری کے بعد معطل ہے۔ اس وقت اجلاس کو بیرونی سکیورٹی سے متعلق خدشات کی بنا پر سرکاری طور پر معطل کیا گیا تھا۔
اس منصوبے کو تونس میں عوامی سطح پر بھرپور حمایت حاصل ہے، جہاں غزہ کی پٹی کے ساتھ یکجہتی کی مختلف تقاریب میں قابض اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کے قانونی بائیکاٹ کا مطالبہ مسلسل کیا جا رہا ہے۔
