Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

ڈاکٹروں کی سرگرمیوں پر پابندی، غزہ میں تباہ کن اثرات کا انتباہ

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) بین الاقوامی طبی ادارے’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر‘(ایم ایس ایف) کے سیکرٹری جنرل کرسٹوفر لوکیئر نے غزہ پٹی کے رہائشیوں پر ممکنہ تباہ کن اثرات سے خبردار کیا ہے، یہ انتباہ قابض اسرائیل کی جانب سے تنظیم کی غزہ میں سرگرمیاں روکنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔

قابض اسرائیلی حکام نے گذشتہ اتوار کو تنظیم کو مطلع کیا کہ غزہ میں اس کا کام بند کیا جا رہا ہے اور اسے سنہ 28 فروری 2026ء تک غزہ پٹی چھوڑنے کی مہلت دی گئی ہے، یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر‘ نے اپنے فلسطینی ملازمین کے ناموں کی فہرست فراہم کرنے سے انکار کر دیا، جسے تنظیم نے محصور غزہ تک انسانی امداد کی رسائی روکنے کا بہانہ قرار دیا۔

لوکیئر نے’اے ایف پی‘ کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ فلسطینی اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں جب انہیں مزید انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے نہ کہ اس میں کمی کی۔

انہوں نے زور دیا کہ تنظیم کی سرگرمیوں کی بندش نہ صرف غزہ کی پٹی بلکہ مغربی کنارے پر بھی تباہ کن اثرات مرتب کرے گی۔

لوکیئر نے بتایا کہ اطباء بلا حدود نے صرف سنہ 2025ء کے دوران غزہ کی پٹی میں 8 لاکھ سے زائد طبی معائنے انجام دیے، ایک لاکھ سے زیادہ زخمیوں کا علاج کیا اور 700 ملین لیٹر سے زائد پانی فراہم کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ دسمبر سنہ 2025ء میں قابض اسرائیل کی جانب سے 60 دن کا انتباہ ملنے کے بعد تنظیم غزہ میں کسی قسم کی طبی سپلائی داخل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

لوکیئر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ انسانی تنظیموں کے کام پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔

اسی تناظر میں قابض اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں انسانی تنظیموں پر اپنی پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں اور رواں سال کے آغاز میں اعلان کیا ہے کہ وہ مارچ 2026ء کے آغاز سے غزہ پٹی میں 37 بین الاقوامی انسانی تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرے گا، اس کا جواز فلسطینی ملازمین کی فہرستیں فراہم نہ کرنا بتایا گیا ہے۔

مارچ 2025ء سے بین الاقوامی تنظیموں میں کام کرنے والے فلسطینی ملازمین سخت اسرائیلی ہدایات کے تحت کڑی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر‘نے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے نام ظاہر نہیں کرے گی کیونکہ اسے اپنی ٹیموں کی سلامتی، ذاتی معلومات کے تحفظ اور طبی کام کی خودمختاری کے حوالے سے کوئی ٹھوس ضمانت فراہم نہیں کی گئی۔

تنظیم نے قابض اسرائیل کے اس فیصلے کو انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالنے کا ایک حربہ قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ تنظیموں کو ایک ناممکن انتخاب پر مجبور کر دیتا ہے، یا تو وہ اپنے عملے کو خطرے میں ڈالیں یا شدید ضرورت مند افراد کو ہنگامی طبی امداد کی فراہمی بند کر دیں۔

’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر‘نے بتایا کہ غزہ پٹی میں 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری جنگ کے دوران صحت کے شعبے سے وابستہ 1700 کارکنان شہید ہو چکے ہیں جن میں تنظیم کے 15 ملازمین بھی شامل ہیں، یہ اعداد و شمار قابض اسرائیل کی مسلسل سفاکیت اور فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کی سنگینی کو بے نقاب کرتے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan