پیرس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ویٹیکن کے روحانی پیشوا پوپ ليو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پوری ایرانی قوم کو دھمکی اور خطرے میں ڈالنا ناقابل قبول ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ سویلین بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، جبکہ انہوں نے ایران میں جاری جنگ کو غیر منصفانہ قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔
پوپ کے یہ بیانات ذرائع ابلاغ سے گفتگو کے دوران سامنے آئے ہیں جو خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور قابض اسرائیل کی مہم جوئی کے تناظر میں دیے گئے ہیں۔
پوپ نے چند روز قبل ہی سینٹ پیٹرز اسکوائر سے ایسٹر کے موقع پر اپنے سالانہ پیغام میں دنیا بھر کے قائدین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جاری تنازعات کو ختم کریں اور غلبہ حاصل کرنے اور جارحیت و قبضے کی پالیسیوں کو ترک کر دیں۔
انہوں نے اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا کہ اقوام اب تشدد کے مناظر کی عادی ہوتی جا رہی ہیں، انہوں نے تشدد کے خلاف بے حسی کے رویے پر خبردار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے احترام اور دشمنانہ کارروائیاں فوری روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے اس تناظر میں کہا کہ جن کے پاس ہتھیار ہیں وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں اور وہ لوگ جن کے پاس جنگیں بھڑکانے کی طاقت ہے وہ امن کو ترجیح دیں۔
پوپ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے ایک اپیل بھی جاری کی جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایران میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے کوئی راستہ نکالیں۔