Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

پاکستان ، ترکی اور ایران اسرائیل کے نشانہ پر

تحریر:ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)مغربی ایشیاء سمیت جنوبی ایشیاء اور بحیرہ روم ایسے علاقے ہیں جہاں تقریبا ایک صدی سے استعماری قوتیں محاذ آرائی کے ذریعہ علاقائی حکومتوں کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی ومعاشی مفادات کے حصول کے لئے سرگرم ہیں۔اس عنوان سے سنہ 1948ء کے بعداسرائیل کے وجود نے اس خطے کو مزید خطرات سے دوچار کیاہے۔ فلسطین پر اسرائیل کا غاصبانہ تسلط ہمیشہ سے صرف فلسطین تک باقی نہیں رہا بلکہ تسلط سے قبل اور بعد میں ہمیشہ گریٹر اسرائیل کے لئے یعنی توسیع پسندی کے لئے کوشش کی جاتی رہی ہے۔اس مقصد کے حصول کے لئے خطے میں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل نے جس ڈاکٹرائن کو متعارف کروایا یا یوں کہہ لیجئے کہ جس ڈاکٹرائن پر عمل کیا اسے اسرائیل کی قومی سلامتی کا نظریہ، جسے عام طور پر پیرامیٹرک سکیورٹی ڈاکٹرائن کہا جاتا ہے، اس ڈاکٹرائن کے مطابق اسرائیل ایک ایسی حکمت عملی پر عمل کرتا ہے کہ جس کے ذریعہ اپنے دشمن یا مخالف نظریاتی ممالک کو دور سے ہی کمزور، مصروف یا محدود رکھے۔ اس پس منظر میں بعض تجزیہ کار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسرائیل نے مختلف وقتوں میں پراکسی ریاستوں، گروہوں یا سفارتی اتحادوں کے ذریعے ایران، ترکی اور پاکستان کے جیو پولیٹیکل اثر کو کمزور رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ یعنی جنوبی ایشیاء، غرب ایشیاء اور بحیرہ روم کو براہ راست متاثر کیا ہے۔
پیرامیٹرک سکیورٹی ڈاکٹرائن کیا ہے ؟اس داکٹرائن کے بنیادی اصولوں میں ڈیٹرنس (Deterrence)،ابتدائی دفاع (Pre-emption)،بیرونی خطرات کو دور رکھنا (Forward Defense Against Adversaries)،علاقائی بیلنس (Balance of Power)کو اپنے حق میں رکھناان اصولوں کے تحت اسرائیل نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ خطے میں طاقتور مسلم فوجی ممالک نہ ابھر سکیںاوردشمن ریاستیں سیاسی اور دفاعی طور پر مصروف رہیںاور انہیںسفارتی سطح پر تنہاکیا جائے۔
پاکستان سے بھی اسرائیل کی دشمنی کی چند ایک اہم وجوہات میں پاکستان کا ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط فوج کا حامل ہونا اور اسی طرح پاکستان کی نظریاتی بنیادوں میںفلسطین کاز کی حمایت اور اسرائیل کو غاصب اور ناجائز وجود قرار دینا ہے۔
جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو ایران اسرائیل کی ڈاکٹرائن میں براہِ راست اسٹریٹیجک حریف ہے، خصوصاً لبنان میں حزبُ اللہ ،فلسطین میں حماس/اسلامی جہاد سمیت شام کے محاذ پر اسرائیل مخالف حکمت عملی اسرائیل کے لئے ناقابل قبول ہے۔ایران بھی اس وقت پاکستان کی طرح اسلامی ملک ہے کہ جس نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ساتھ ساتھ ایران بھی فوجی و عسکری قوت میں اضافہ کر رہاہے اور میزائل ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کر تے ہوئے جوہری میدان میں بھی ترقی کا سفر طے کر رہاہے ۔یہ سب کچھ اسرائیل کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔
اب اگر ترکیہ کی بات کریں تو ترکی 2002ء سےفلسطین کے بیانیےکو از سر نو اٹھا رہاہے، اسی طرح مشرقی بحیرۂ روم میں گیس اور بحری برتری نے بھی اسرائیل کے لئے مشکلات پیدا کی ہیں۔ حالانکہ ترکی اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات بھی ہیں۔اخوان المسلمین کی سیاسی حمایت بھی اسرائیل کے لئے مشکلات میں شمار ہوتی ہے۔ ان تمام وجوہات کے باعث ترکی اسرائیل کے ساتھ نرم ٹکراؤ میں رہا ہے۔
سوال یہ اٹھتا ہےکہ اسرائیل اپنی ڈاکٹرائن کے ذریعہ ان تین ممالک یعنی پاکستان، ایران اور ترکیہ کو کنٹرول کرنے کے لئے کون سے حربے استعمال کر رہاہے۔یا یہ کہہ لیجئے کہ کون سی پراکسی ریاستوں کے ذریعہ ان تین مسلمان ممالک کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
غاصب صیہونی ریاست اسرائیل پیرامیٹرک سکیورٹی ڈاکٹرائن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پاکستان کو بھارت، امریکہ ، یورپی یونین، آج کل افغانستان اور سعودی عر ب کے ذریعہ کنٹرول کرنے یا الجھانے کی کوشش کررہاہے۔اسی طرح ایران کے خلاف امریکہ، یورپی یونین، سعودی عرب، بحرین، متحد ہ عرب امارات اسرائیل کے بڑے کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ترکی کے خلاف اسرائیل کے پاس یونان اور قبرض مضبوط ہتھکنڈے ہیں اور ساتھ ساتھ مصر سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔
اسرائیل اپنی ڈاکٹرائن کے ذریعہ براہِ راست جنگ یا عسکری تصادم سے زیادہ پراکسی بلاکس اور اتحادی نظام کو استعمال کرنے پر ترجیح دیتا ہے۔
اسرائیل نے امریکہ کے پالیسی سازی کے حلقوں پر اثرانداز ہونے کے لیے خاص تھنک ٹینکس جیسے فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز (FDD) کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا ہے تاکہ یہ تاثر مضبوط ہو کہ ایران کے خلاف عسکری اقدام ہی ایک قابلِ عمل حل ہے۔ اسی لابنگ اور بیانیاتی دباؤ کے نتیجے میں واشنگٹن نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ (Maximum Pressure) کی پالیسی اختیار کی۔ اس دوران تل ابیب مسلسل ایسی انٹیلی جنس معلومات امریکہ کو فراہم کرتا رہا ہے جن کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کو فوری نوعیت کے عالمی خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسرائیل کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ اگر کسی فوجی کارروائی کی نوبت آئے تو اسے امریکی بحریہ اور فضائیہ انجام دے، تاکہ اسرائیل کو طویل علاقائی جنگ کے مالی اور انسانی بوجھ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
پاکستان کے جوہری اور دفاعی توازن کو چیلنج کرنے کے لیے اسرائیل نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو ایک تزویراتی پلیٹ فارم کے طور پر تشکیل دیا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے بھارت کو دی جانے والی عسکری ٹیکنالوجی محض دفاعی نوعیت کی نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف جارحانہ برتری فراہم کرتی ہے۔ اس تعاون کا نمایاں ترین نمونہ باراک (Barak-8) میزائل سسٹم ہے، جو دونوں ممالک کی مشترکہ پیداوار ہے اور جنوبی ایشیا میں کروز میزائلوں اور جنگی طیاروں کے خلاف ایک مضبوط دفاعی پرت تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فالکن اے ڈبلیو اے سی ایس (Phalcon AWACS) نے بھارت کی فضائی نگرانی کی صلاحیت کو پاکستان کی حدود کے اندر گہرائی تک بڑھایا ہے۔مزید برآں اسرائیل نے بھارت کو ہیرون ٹی پی (Heron TP) جیسے مسلح ڈرونز اور اسپائس2000 (Spice-2000) سمارٹ گولہ بارود فراہم کیا، جن کا استعمال پاکستان کے خلاف بالاکوٹ جیسے واقعات اور 2025 کی محدود جھڑپوں میں دیکھا گیا۔ تاہم سب سے اہم پہلو انٹیلی جنس اور سائبر تعاون ہے۔ اس ضمن میں اسرائیل نے بھارت کو پیگاسس (Pegasus) جیسے جاسوسی سافٹ ویئر اور سائبر وارفیئر کے اوزار دئیے، جو حساس اداروں میں دراندازی، نگرانی اور دفاعی نیٹ ورک کی کمزوریاں تلاش کرنے کے لیے استعمال ہوئے۔ مجموعی طور پر یہ تعاون پاکستان کو مستقل دفاعی مصروفیت میں رکھ کر مشرقی محاذ پر اسٹریٹیجک دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ڈیزائن شدہ ہے۔
ترکیہ کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر کو محدود کرنے کے لیے اسرائیل نے یونان اور قبرص کے ساتھ بحیرۂ روم میں دفاعی معماری تشکیل دی ہے۔ اسرائیل نے یونان کے ساتھ 1.65بلین ڈالر کا ایک دفاعی معاہدہ کیا، جس کے تحت یونانی فضائیہ کے لیے ایک بین الاقوامی فلائٹ ٹریننگ سینٹر قائم کیا جا رہا ہے، جہاں اسرائیلی جنگی حکمتیں اور تکنیکیں یونانی پائلٹوں کو منتقل کی جاتی ہیں تاکہ وہ ترکیہ کے خلاف زیادہ مؤثر ہوں۔اس کے علاوہ اسرائیل نے یونان کو اسپائک این ایل او ایس (Spike NLOS) میزائل سسٹم فراہم کیا ہے، جو بحری اور زمینی اہداف کو انتہائی درستی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بحیرۂ روم میں ترکیہ کے توانائی سے متعلق بحری منصوبوں کو محدود کرنے میں استعمال ہو سکتا ہے۔
قبرص کو بھی جدید ریڈار، فضائی نگرانی اور آئرن ڈوم طرز کے دفاعی نظام کی فراہمی کی پیشکش کی گئی ہے تاکہ وہ ترکیہ کے ڈرونز اور بحری صلاحیتوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو سکے۔ اسرائیل، یونان اور قبرص کے درمیان انٹیلی جنس اشتراک کا ایک مربوط نظام وجود میں آ چکا ہے جو مشرقی بحیرۂ روم میں ترکیہ کی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کرتا ہے اور انقرہ کو کسی بھی مہم جوئی سے قبل محتاط فیصلوں پر مجبور کرتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیل بیک وقت پاکستان ، ترکی اور ایران کے خلاف کاروائی کرنے کی صلاحیت نہیںرکھتا ہے تاہم اسرائیل مغربی ایشیائی ممالک میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو بڑھانے کے لئے پراکسی ریاستوں کے ذریعہ پاکستان ، ترکیہ اور ایران جیسے اسلامی ممالک کے خلاف سرگرم ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ تینوں ممالک مل کر ایک مضبوط اتحاد تشکیل دیں تا کہ اسرائیل کی براہ راست اور بالواسطہ جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan