Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

’پانی ہمارے سینوں تک آگیا‘: بارش کے آگے غزہ کے مکین بے بس

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سیاہ بادلوں سے بوجھل آسمان کے نیچے اور اس زمین پر جو بارشوں کے بعد کیچڑ کے نہ ختم ہونے والے دلدل میں بدل چکی ہے، غزہ پٹی میں بے گھر فلسطینی ایک ایسا سرد موسم گزار رہے ہیں جو جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی جما دیتا ہے۔ لاکھوں مجبور انسان ایسے خیموں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جو سردی سے بچاتے ہیں نہ تیز ہواؤں کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی بارش کے رحم و کرم سے کسی قسم کا تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

رہائش کے شعبے سے وابستہ ماہرین کی جانب سے کی گئی ایک تازہ اور تشویشناک جانچ میں یہ تلخ حقیقت سامنے آئی ہے کہ فلسطینی بے گھر افراد کو بعض ممالک کی طرف سے فراہم کیے گئے ہزاروں خیمے غزہ کی سخت سردیوں کے لیے بالکل ناکارہ ہیں۔ یہ خیمے بارش روک سکتے ہیں نہ ہی طوفانی ہواؤں کے سامنے کھڑے رہنے کی سکت رکھتے ہیں اور نہ ہی انسانی وقار کے مطابق کسی کم از کم تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔

اس جائزے کے مطابق جس کے نتائج برطانوی اخبار گارڈیئن نے شائع کیے، گذشتہ ہفتوں کے دوران غزہ پٹی پر آنے والے طوفانوں نے ہزاروں خیمے یا تو جڑ سے اکھاڑ دیے یا پھاڑ ڈالے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس تباہی سے تقریباً دو لاکھ پینتیس ہزار افراد براہ راست متاثر ہوئے جن میں زیادہ تر بچے، خواتین اور عمر رسیدہ افراد شامل ہیں جو پہلے ہی جنگ کے زخم سمیٹے ہوئے تھے۔

خیمے مرمت نہیں مکمل تبدیلی مانگتے ہیں

فلسطین میں رہائشی شعبے کے گروپ کی رپورٹ میں جو سینکڑوں انسانی تنظیموں کے کام کو منظم کرتا ہے اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ حال ہی میں فراہم کیے گئے خیموں کی ایک بڑی تعداد مرمت کے قابل نہیں بلکہ مکمل طور پر تبدیل کیے جانے کی ضرورت ہے۔ ناقص خام مال، کمزور ڈھانچہ، پانی روکنے کے انتظامات کا فقدان، فرش کی عدم موجودگی اور سنگین نقائص ایسے عوامل ہیں جن کے باعث بارش کا پانی خیمے کے اوپر جمع ہو جاتا ہے اور بالآخر وہ خیمہ انسانوں سمیت زمین بوس ہو جاتا ہے۔

انجینئر احمد الشرافی نے ہمارے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانی بنیادوں پر سردیوں میں استعمال ہونے والا خیمہ کم از کم ستر کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والی ہواؤں کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اس میں بلند فرش کے ساتھ دوہرا واٹر پروف نظام موجود ہو۔ انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ غزہ میں جو خیمے نظر آ رہے ہیں وہ سستے اور عارضی گرمیوں کے خیمے ہیں جن میں سے کئی پہلے ہی موسمی دباؤ میں دم توڑ دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اصل خطرہ صرف خیموں کا خراب ہونا نہیں بلکہ ان کا ایسے ماحول میں نصب ہونا ہے جو بنیادی طور پر انسانی رہائش کے لیے ہی غیر موزوں ہے۔ کیچڑ میں دھنسی زمین، پانی کی نکاسی کا مکمل فقدان اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچہ، ایسے میں خیمہ پناہ نہیں بلکہ ایک خاموش قاتل بن جاتا ہے۔

پانی ہمارے بچوں کے سینوں تک آ گیا

غزہ پٹی کے جنوب میں قائم ایک بے گھر افراد کے کیمپ میں چونتیس سالہ ام محمد بصلہ بھیگے ہوئے بستر کو دھوپ میں سکھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں خوف اور بے بسی ایک ساتھ جھلک رہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ رات کے اندھیرے میں اچانک پانی خیمے کے اندر امڈ آیا۔ ہم چیخنے لگے اور بچوں کو کرسیوں پر اٹھا لیا۔ میرا چھوٹا بیٹا سردی سے کانپ رہا تھا اور خیمہ ایک جانب سے پھٹ چکا تھا۔

انہوں نے لرزتی آواز میں کہا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ یہ امدادی خیمے ہیں مگر یہ ہماری حفاظت نہیں کرتے۔ بارش ان سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔

بچے سب سے زیادہ خطرے میں

ماہرین طب نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل نمی اور شدید سردی کے باعث بالخصوص بچوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

میدانی طبی مرکز میں خدمات انجام دینے والے بچوں کے ڈاکٹر علاء ابو دقہ نے کہا کہ ہم سینے کے شدید انفیکشن، دمہ، جلدی امراض اور غذائی قلت کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بچہ پھٹے ہوئے خیمے میں گیلی زمین پر سوتا ہے وہ نہ صرف بیمار ہے بلکہ اس کی زندگی براہ راست خطرے میں ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ خیمہ محض چھت نہیں بلکہ بیماریوں سے بچاؤ کی پہلی دیوار ہوتا ہے۔ جب رہائش منہدم ہوتی ہے تو صحت بھی بکھر جاتی ہے۔

امدادی سامان کے معیار پر سنجیدہ سوالات

گارڈیئن کی اس رپورٹ نے جسے القدس میں جیسن برک اور غزہ میں سہام طنطش نے مرتب کیا، اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر غزہ میں داخل ہونے والی امداد کے معیار اور نگرانی و احتساب کے فقدان پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

اگرچہ قابض اسرائیلی حکام نے سردیوں کی تیاریوں کی حمایت اور خیمے اور ترپالیں داخل کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا مگر امدادی تنظیموں اور مقامی شہریوں نے تصدیق کی ہے کہ تجارتی منڈی میں دستیاب خیمے نہایت مہنگے ہیں اور غزہ کی جاں گسل موسمی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں۔

غزہ کے تقریباً تئیس لاکھ باشندے سنہ 2023ء میں اکتوبر کے دوران شروع ہونے والی قابض اسرائیلی جنگ کے بعد سے مسلسل بے گھری کی اذیت جھیل رہے ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور قریبی مستقبل میں تعمیر نو کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی۔

سیز فائر کے بعد امیدوں کے ماند پڑنے اور انسانی تنظیموں کے کام پر پابندیوں کے تسلسل کے ساتھ یہ انسانی المیہ خاموشی سے مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے جبکہ بے گھر فلسطینی ایسی خیمہ بستیوں میں سردی کا مقابلہ کر رہے ہیں جو نام کے سوا کسی صورت میں پناہ نہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan