غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی وزارت صحت نے غزہ کی پٹی میں سینکڑوں مریضوں کی زندگیوں کو درپیش سنگین خطرات کے حوالے سے سخت وارننگ جاری کی ہے۔ یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے باعث ہسپتالوں کے اندر بجلی پیدا کرنے والے جنریٹر چلانے کے لیے درکار تیل (لیوبریکینٹس) مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
وزارت صحت نے اپنی روزانہ کی شماریاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران غزہ کے ہسپتالوں میں صرف 3 زخمیوں کو لایا جا سکا ہے جبکہ بڑی تعداد میں شہدا اب بھی ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر پڑے ہوئے ہیں کیونکہ ایمبولینس اور ڈیفنس سول کی ٹیمیں قابض دشمن کی رکاوٹوں کے باعث ان تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو ہونے والے سیز فائر کے بعد سے اب تک شہدا کی مجموعی تعداد 713 ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 1,943 تک پہنچ گئی ہے اور ملبے سے نکالے گئے شہدا کی تعداد 756 ریکارڈ کی گئی ہے۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی غاصب صہیونی دشمن کی نسل کشی کی مہم کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق اب تک 72,289 فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی کل تعداد 172,043 ہو گئی ہے۔
اسی تناظر میں وزارت صحت نے نظامِ صحت کی فوری تباہی کے حوالے سے ہنگامی الرٹ جاری کیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ تیل کی عدم دستیابی کے باعث انتہائی نگہداشت کے وارڈز (آئی سی یو)، بچوں کے نرسری یونٹس، ڈائیلاسز سینٹرز اور آپریشن تھیٹرز سمیت تمام اہم شعبہ جات کی بندش کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ ویکسینز اور بلڈ یونٹس کے ضائع ہونے کا بھی شدید خدشہ ہے۔
انجینئرنگ اور طبی آلات کے شعبے کے اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری، انجینئر بسام الحمادین نے تصدیق کی ہے کہ تیل کی قلت کا برقرار رہنا مریضوں کے لیے حقیقی موت کا پیغام ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ہسپتالوں کا تمام تر انحصار اب صرف بجلی کے جنریٹرز پر ہے۔
وزارت صحت نے امدادی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی سے باہر سے تیل کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کریں اور اسے ہسپتالوں اور بنیادی صحت کے مراکز تک ہنگامی بنیادوں پر پہنچانے میں مدد کریں۔
وزارت نے بین الاقوامی اداروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ ضروری سامان کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ طبی مراکز کے کام کو جاری رکھنے کے لیے ماہانہ بنیادوں پر کم از کم 2500 لیٹر تیل کی اشد ضرورت ہے۔
