(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران نے خطے کے متعدد ممالک کو آگاہ کر دیا ہے کہ اگر ایران پر امریکی حملہ ہوا تو ان کی سرزمین پر قائم امریکی فوجی اڈے براہ راست نشانہ بنیں گے۔ یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باعث واشنگٹن نے احتیاطی اقدامات شروع کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں اپنے بعض فوجی اڈوں سے اہلکار نکالنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ سمیت متعدد ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی امریکی حملے کا جواب ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران نے ان ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
تشویش میں اضافے کے اشارے کے طور پر رائٹرز نے تین سفارتکاروں کے حوالے سے بتایا کہ بعض اہلکاروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آج شام تک قطر میں واقع العدید امریکی فضائی اڈے کو چھوڑ دیں۔ بعد ازاں ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی کہ امریکہ نے بالفعل خطے کے اہم فوجی اڈوں سے اپنے متعدد اہلکار واپس بلا لیے ہیں اور اس اقدام کو بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ایک احتیاطی قدم قرار دیا ہے۔
ادھر ریاست قطر نے بین الاقوامی میڈیا آفس کے ذریعے وضاحت کی کہ وہ شہریوں اور مقیم افراد کی سکیورٹی اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ العدید اڈے سے بعض اہلکاروں کی روانگی خطے میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں عمل میں آئی ہے۔
اسی تناظر میں ایرانی پاسداران انقلاب کے فضائی و خلائی دستوں کے کمانڈر مجید موسوی نے اعلان کیا کہ گزشتہ جون میں قابض اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے بعد ایران کے میزائل ذخیرے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے مجید موسوی کے حوالے سے بتایا کہ ایران اپنی تیاریوں کی انتہا کو پہنچ چکا ہے، جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے اور پاسداران انقلاب کی فوجی پیداوار کی رفتار جون سنہ 2025ء سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔
سیاسی محاذ پر ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان براہ راست رابطے معطل کر دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ دھمکیاں سفارتی عمل کو کمزور کرتی ہیں اور ایرانی جوہری فائل پر ممکنہ مذاکرات کے لیے متوقع تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
اسی دوران اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کا طیارہ آج نیواطیم فضائی اڈے سے قابض اسرائیل کی فضائی حدود سے باہر پرواز کر گیا۔ بتایا گیا کہ یہ پرواز پہلے سے طے شدہ مرمت اور تربیتی مقاصد کے لیے تھی اور نیتن یاھو اس میں سوار نہیں تھے۔ طیارہ بعد ازاں جزیرہ کریٹ کے شہر ہراکلیون کے ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد واپس قابض اسرائیل پہنچا۔ بعض رپورٹس میں اس پرواز کو ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی تیاریوں سے جوڑا گیا۔
ایران کے اندرونی حالات کے حوالے سے انسانی حقوق کے کارکنوں کی خبر رساں ایجنسی ہرانا نے بتایا کہ ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2571 تک پہنچ چکی ہے۔ تہران کا الزام ہے کہ امریکہ اور قابض اسرائیل تشدد کو ہوا دے رہے ہیں اور بیرونی حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر کو جانی نقصان کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ کشیدگی گزشتہ جون میں قابض اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے کئی ماہ بعد سامنے آئی ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے، ایسا خطہ جو پہلے ہی غزہ پر قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے اثرات بھگت رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ مدد راستے میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے کسی بھی ملک کی درآمدات پر 25 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔ اس اقدام پر چین کی جانب سے سخت تنقید سامنے آئی ہے جو ایرانی تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہے۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ اس پر ہونے والے کسی بھی حملے کا جواب قابض اسرائیل، امریکی اڈوں اور امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا۔ اسی سلسلے میں ایرانی حکام نے قطر، ترکیہ اور عراق سمیت خطے کے متعدد ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ کشیدگی کو قابو میں لایا جا سکے یا اس کے ممکنہ نتائج کے لیے تیاری کی جا سکے۔
