مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر اریحا کے شمال میں واقع وسطی وادی اردن کے قصبے جفتلک میں قابض اسرائیلی فوج کے چھوڑے ہوئے بارودی مواد کے دھماکے کے نتیجے میں دو فلسطینی بچے شہید اور 3 دیگر زخمی ہو گئے۔
قصبہ جفتلک کے میئر احمد غوانمہ نے بتایا کہ قصبے کے پانچ بچے قریبی گاؤں فروش بیت دجن کی اراضی میں موجود تھے کہ اس دوران قابض اسرائیلی فوج کا چھوڑا ہوا ایک بارودی مواد (لینڈ مائن) زوردار دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں دو بچے جامِ شہادت نوش کر گئے اور تین دیگر انتہائی شدید زخمی ہوئے۔ فی الوقت ان کے ناموں یا زخموں کی نوعیت کے بارے میں قطعی معلومات دستیاب نہیں ہو سکی ہیں۔
احمد غوانمہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ قابض اسرائیلی فوج نے واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کر دی اور جائے وقوعہ پر اضافی نفری روانہ کر کے کسی بھی شخص کو قریب آنے سے روک دیا۔ بعد ازاں بچوں کو فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسرائیلی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ بچے علاقے میں “عکوب” (ایک صحرائی پودا) چن رہے تھے کہ اس دوران یہ مشکوک دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا جس سے وہ لہولہان ہو گئے۔ زخمی بچوں کے قابض اسرائیلی فوج کی تحویل میں ہونے کے باعث ان کی صحت کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے دستے حال ہی میں وادی اردن کی طرف روانہ ہوئے ہیں جہاں یہ اطلاع ملی تھی کہ فوجی مشقوں کے بعد بچ جانے والے بارودی مواد سے کھیلتے ہوئے تین فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ قابض اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ فوجی تربیتی علاقہ ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے اور یہاں داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہے، نیز واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی۔
اسی تناظر میں منگل کو بیت لحم کے مشرق میں واقع گاؤں الرشایدہ میں آباد کاروں کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہو گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق آباد کاروں کے ایک گروہ نے الرشایدہ پر دھاوا بولا اور اپنی بھیڑ بکریاں گاؤں کی زمینوں میں چرانے لگے۔ جب مقامی لوگوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو آباد کاروں نے ان پر گولیاں برسا دیں، جس کے نتیجے میں سلامہ محمد رشایدہ پاؤں میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ سفاک آباد کاروں نے زخمی شخص کے بیٹے ایوب پر بھی تشدد کیا جس سے وہ زخمی ہو گیا۔
غزہ کی پٹی پر سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی نسل کشی کے بعد سے قابض اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے میں اپنی جارحیت تیز کر دی ہے، جس میں قتل، گرفتاری، جبری بے دخلی اور بستیوں کی توسیع شامل ہے۔ فلسطینیوں کا ماننا ہے کہ اس سفاکیت کا مقصد زمین پر نئے حقائق مسلط کرنا ہے۔
فلسطینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں اب تک مغربی کنارے میں 1114 سے زائد فلسطینی شہید اور تقریباً 11 ہزار 500 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 22 ہزار کے قریب فلسطینیوں کو گرفتار کر کے قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں ڈال دیا گیا ہے۔
