تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے امریکی اغوا کے بعد دنیا میں ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال جنم لے چکی ہے۔ حالانکہ ا ب امریکی حکومت بیانات دے رہی ہے کہ وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں ہے لیکن یہ بھی مارکو روبیو کا عجیب بیان ہے کہ جنگ نہیں ہے لیکن ایک منتخب صدر کو اغوا کر کے امریکی عدالتوں میں پیش کیا جا رہاہے۔ کیا عالمی قانون کی ٹھیکیداری امریکہ کے پاس ہے ؟ یا یہ کہ امریکہ کو کسی بین الاقوامی ادارے نے ایسے احکامات دئیے ہیں کہ کسی بھی خود مختار ملک میں جا کر کسی صدر کو اغوا کر کے لے آئو ؟ یہ سراسر غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے اور سنگی جرم ہے۔
بین الاقوامی سیاست اور عالمی قوانین کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کا اطلاق تمام ریاستوں اور حکمرانوں پر یکساں نہیں ہوتا۔ بین الاقوامی قوانین کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ قوانین کو لاگو کرنے کے لئے کوئی باقاعدہ اتھارٹی یا فورس نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک برطانوی رکنِ پارلیمنٹ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کواغوا کیا جا سکتا ہے تو پھر ہزاروںفلسطینیوں کو قتل کرنے والے نیتن یاہو کو باقاعدہ گرفتار کر کے سزا کیوں نہیں دی جا سکتی؟برطانوی رکن پارلیمنٹ کا یہ بیان سوشل میڈیا پر پذایرائی حاصل کر چکا ہے کیونکہ دنیا چاہتی ہے کہ فلسطینیوں کے قاتل کو سزا دی جائے اور اس عنوان سے تو بین الاقوامی قوانین کے مطابق عالمی عدالت انصاف فیصلہ دے چکی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک اس فیصلہ پر عمل درآمد کے لئے کوئی خاص عمل سامنے نہیں آیا ہے۔برطانوی رکن پارلیمنٹ کا یہ بیان عالمی قانون کی عملداری کے حوالے سے ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر مادورو کواغوا کیا جا سکتا ہے تو پھر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو عالمی جرائم کے ارتکاب پر گرفتار کر کے عالمی عدالت انصاف یا عالمی فوجداری عدالت (ICC) میں پیش کیوں نہیں کیا جا سکتا؟
امریکی حکومت کا یہ طریقہ واردات رہاہے کہ ہمیشہ اپنے مخالفین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سمیت ملک میں جمہوریت دشمنی کے نعروں کو ایجاد کیا جاتاہے ہے اور پھر ان ممالک میں فوجی طاقت کے ساتھ یا پھر اندرون خانہ ایجنٹوں کی مدد سے حکومت کا تختہ الٹ دیا جاتاہے۔ پاکستان میں گذشتہ حکومت کا خاتمہ بھی امریکی سازشوں کا شاخسانہ قرار دیا گیا ہے ۔اپنے اسی طریقہ واردات کو اپناتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے منتخب صدر نکولس مادورو کے خلاف انتقامی کاروائی انجام دی ہے۔امریکہ نے خود ہی نکولس مادورو پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سیاسی مخالفین کے خلاف جبر، اور عوامی آزادیوں کو محدود کرنے جیسے الزامات عائد کر دئیے ہیں ۔حالانکہ ایسے تمام کام تو ٹرمپ خود بھی امریکی حکومت میں انجام دیتے آئے ہیں۔ مغربی ممالک ان الزامات کی بنیاد پر اسے ایک آمر قرار دیتے ہیں اور اس کے اغوا کو قانونی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ لیکن دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم، نسل کشی، شہری آبادی پر بمباری، اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بنانے جیسے سنگین الزامات موجود ہیں،جن کے باقاعدہ شواہد اور ٹھوس ثبوت بھی عالمی عدالت انصاف میں پیش کئے جا چکے ہیں۔نیتن یاہو کے جرائم کی دستاویزی شہادتیں عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں بھی ملتی ہیں۔لیکن پھر بھی نہ تو مغربی حکومتوں کو یہ جرائم نظر آتے ہیں اور نہ ہی دنیا میںامن کا ڈھونگ رچانے والی امریکی حکومت کوئی کاروائی کرتی نطر آتی ہے۔
عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلیوزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف تحقیقات کا عندیہ بھی دیا ہے، مگر عملی طور پر نیتن یاہو آج بھی آزاد گھوم رہا ہے، عالمی فورمز پر شرکت کرتا ہے اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ عالمی عدالت کے فیصلہ کے بعد نیتن یاہو دو مرتبہ امریکہ کا دورہ بھی کر چکا ہے لیکن مجال ہے کہ ٹرمپ کو انسانی حقوق یا کوئی اور بات یاد آئی ہو، بلکہ ٹرمپ مسلسل نیتن یاہو کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور اسرائیل کے تمام تر جنگی جرائم اور انسانیت سوز مظالم کی پردہ پوشی بھی کرتے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی غیر مشروط حمایت ہے۔ یہی وہ دوہرا معیار ہے جو عالمی انصاف کے تصور کو کمزور اور مشکوک بنا دیتا ہے۔
برطانوی رکن پارلیمنٹ کی ویڈیو جس میں وہ نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں حقیقت میں دنیا کے ہر انسان کے دل کی آواز ہے۔ دنیا کا ہر با ضمیر شخص چاہتا ہے کہ فلسطینی عوام کے قاتلوں کو سزا دی جائے او ر ان کا محاسبہ کیاجائے ۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بین الاقوامی قوانین میں یہی سب سے بڑی خامی ہے کہ طاقتور اور بدمعاشو ں کو لگام دینے کے لئے کوئی باقاعدہ فورس موجود نہیں ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر بین الاقوامی قانون واقعی غیر جانبدار ہے تو پھر اس کا اطلاق صرف کمزور ممالک یا مغرب کے ناپسندیدہ حکمرانوں تک محدود کیوں ہے؟ فلسطین میں ہزاروں معصوم بچوں، عورتوں اور بزرگوں کے قتل عام کو نظرانداز کر کے کسی اور ملک کے حکمران کو انسانی حقوق کی پامالی پر کٹہرے میں کھڑا کرنا دراصل انصاف نہیں بلکہ سیاسی مفاد پرستی ہے۔نیتن یاہو کے اقدامات نہ صرف جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی بھی توہین ہیں۔ اگر عالمی برادری واقعی انصاف، امن اور انسانی جان کی حرمت پر یقین رکھتی ہے تو اسے یہ ہمت دکھانا ہو گی کہ اسرائیلی قیادت کو بھی اسی طرح قانون کے تابع کرے جیسے دیگر ممالک کے حکمرانوں کو کیا جاتا ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مادورو اور نیتن یاہو کے درمیان قانونی تقابل دراصل عالمی نظامِ انصاف کے چہرے سے نقاب ہٹاتا ہے۔ جب تک طاقتور کو قانون سے بالاتر اور کمزور کو قابلِ گرفت سمجھا جاتا رہے گا، دنیا میں نہ حقیقی انصاف قائم ہو سکے گا اور نہ ہی پائیدار امن۔ عالمی عدالتوں کی ساکھ اسی دن بحال ہوگی جب نیتن یاہو جیسے جنگی مجرموں کو بھی کٹہرے میں لا کر جواب دہ بنایا جائے گا۔