Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

لبنان

نعیم قاسم: حکومتیں اسرائیل کو سہولتیں دینے کے بجائے مزاحمت کرے

بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے جمعہ کے روز اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ غاصب صہیونی دشمن کے خلاف مقاومت کا سلسلہ جاری رہے گا اور سابقہ حالات کی طرف واپسی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے لبنانی حکام پر زور دیا کہ وہ ان کے بقول مفت رعایتیں دینے کا سلسلہ بند کریں۔ یہ پیغام نعیم قاسم نے لبنانی عوام کے نام ایک ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا کہ واشنگٹن آئندہ ہفتے لبنان اور قابض اسرائیل کے وفود کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔

نعیم قاسم نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ صہیونی دشمن میدان جنگ میں مزاحمت کے ہیروز کا مقابلہ کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اور وہ بارہا اعلان کے باوجود لبنان کے اندر زمینی جارحیت کرنے میں اب تک ناکام رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چالیس دن سے زائد کی مسلسل جارحیت کے باوجود قابض اسرائیل اپنے قریبی اور دور دراز کے آباد کاروں کی بستیوں بشمول حیفہ اور اس سے آگے کے علاقوں کو مقاومت کے راکٹوں، گولوں اور ڈرون طیاروں سے بچانے میں ناکام رہا ہے۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ مزاحمت آخری سانس تک جاری رہے گی اور ہم کسی بھی صورت سابقہ صورتحال کی طرف واپسی قبول نہیں کریں گے۔ نعیم قاسم نے لبنانی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مفت رعایتیں دینا بند کریں اور مزید کہا کہ ہم بطور ریاست، فوج، عوام اور مقاومت مل کر اپنے ملک کی حفاظت کریں گے، اس کی خودمختاری بحال کریں گے اور قابض دشمن کو نکال باہر کریں گے۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دشمن نے اپنی میدانی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے بدھ کے روز بیروت، ضاحیہ، جنوب، بقاع اور جبل لبنان سمیت ہر جگہ پر ہجوم محلوں، دیہات اور قصبوں میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنا کر خونی سفاکیت کا سہارا لیا، لیکن ہماری لبنانی قوم دشمن کے گمان سے کہیں زیادہ مضبوط اور پائیدار ہے۔ دو مارچ سنہ 2026ء سے قابض اسرائیل نے لبنان کے خلاف ایک وسیع جارحیت کا آغاز کر رکھا ہے جس میں مختلف علاقوں پر فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ ملک کے جنوبی حصوں میں زمینی دراندازی کی کوششیں بھی شامل ہیں۔

گذشتہ 9 مارچ کو لبنانی صدر جوزف عون نے عالمی سرپرستی میں قابض اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کی دعوت دی تھی، جس کا مقصد ایک مکمل جنگ بندی کے قیام کی بنیاد پر اپنے ملک پر ہونے والے تمام اسرائیلی حملوں کو رکوانا تھا۔ اس اقدام میں لبنانی فوج کے لیے لاجسٹک مدد کی فراہمی بھی شامل ہے تاکہ اسے کشیدگی والے علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے، وہاں سے اسلحہ ضبط کرنے اور حزب اللہ کے ہتھیاروں اور اسلحہ خانوں کو ختم کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

بدھ کی صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی ثالثی کے ذریعے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کے لیے سیز فائر کی منظوری کا اعلان کیا تھا، تاہم انہوں نے اسے آبنائے ہرمز کو فوری اور مکمل طور پر کھولنے اور سیز فائر کے دو طرفہ ہونے سے مشروط کیا تھا۔ اگرچہ اسلام آباد اور تہران نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اس جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے، تاہم واشنگٹن اور تل ابیب نے اس کی تردید کر دی اور قابض اسرائیل نے لبنان پر ایسے حملے جاری رکھے جنہیں جارحیت کے آغاز سے اب تک کے شدید ترین حملے قرار دیا گیا، جس کے نتیجے میں بدھ کو 303 افراد شہید اور 1150 زخمی ہوئے۔ مجموعی طور پر 2 مارچ سنہ 2026ء سے لبنان پر جاری اس مسلسل اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 1888 افراد جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ 6 ہزار 92 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan