Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

نسل کشی کے سائے تلے رمضان، غزہ کے باسیوں کی استقامت قابلِ دید

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں مسلسل تیسرے سال بھی رمضان المبارک کا استقبال ایک ایسی خون آشام جنگ اور المناک انسانی و معاشی حالات کے سائے میں کیا جا رہا ہے، جس کی ہولناکیوں نے سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک تاریخ کے تمام سیاہ باب مسخ کر دیے ہیں۔

وہ مقدس مہینہ جو کبھی گلیوں کی دلنواز رونقوں، بازاروں کے گہما گہمی اور افطار کے وقت گرما گرم قطایف کی اشتہا انگیز خوشبو سے پہچانا جاتا تھا، آج قابض اسرائیل کی سفاکیت کے باعث محض سرد خیموں، بے روزگاری کے اژدھے، ادھورے دسترخوانوں اور ان مکانات کے ملبے کا استعارہ بن چکا ہے جو کبھی ہنستے بستے گھر تھے۔

اب رمضان کی تیاریاں ہفتوں پہلے شروع نہیں ہوتیں، دکانوں کے تختے قمر الدین اور لذیذ کھجوروں سے سجے ہیں اور نہ ہی محلوں میں وہ روایتی فانوس اور قمقمے روشن ہیں جو بچوں کے چہروں پر مسرت بکھیر دیا کرتے تھے۔ آج غزہ کے ہر باسی کی زبان پر ایک ہی سوال ہے: کیا آج افطار کے لیے کچھ میسر ہوگا؟

خیموں کی اوٹ سے ابھرتی ہوئی معاشی جدوجہد

خان یونس کی کوسٹل ہائی وے شاہراہ الرشید پر جہاں سمندر کی لہریں اب سسکیاں لیتی محسوس ہوتی ہیں، زاہر القدرہ اپنے “سپر مارکیٹ القدرہ” کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ اب کوئی عالی شان اسٹور نہیں بلکہ پلاسٹک کی چادروں سے ڈھکا ایک خیمہ ہے جو ان کی ہمت کی آخری نشانی ہے۔ جنگ سے پہلے یورپی ہسپتال کے قریب ان کا کاروبار پورے علاقے کا محور تھا، جہاں رمضان کی برکتیں تجارتی چہل پہل کی صورت نظر آتی تھیں۔

القدرہ ان سنہری ایام کو یاد کرتے ہوئے رندھی ہوئی آواز میں کہتے ہیں کہ رمضان ہمارے لیے ایک “مقدس قومی جشن” کی مانند ہوتا تھا، لیکن گذشتہ برس مئی میں قابض اسرائیل کے طیاروں نے سب کچھ راکھ کر دیا۔ شدید بمباری اور دھماکہ خیز میزائلوں نے ان کے گھر اور دکان کو پیوندِ خاک کر دیا۔

اپنے 20 لاکھ ڈالر کے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں “ہم اس خیمے میں بھی صمود و استقامت کی شمع جلائے ہوئے ہیں، مگر ہر لمحہ یہ خوف دامن گیر رہتا ہے کہ آسمان سے گرتی موت (بمباری) کہیں ہمارا یہ آخری سہارا بھی نہ چھین لے”۔

خالی ہاتھ اور “تکایا” کے محتاج دسترخوان

اس انسانی المیے کا دوسرا رخ ان دربدر خاندانوں کی سسکتی زندگی ہے جو بے سروسامانی کے عالم میں جی رہے ہیں۔ جبالیہ سے ہجرت کر کے جنوب پہنچنے والی 35 سالہ شیماء ابو حمام کی آنکھیں اپنے بچوں کے معصوم سوالوں پر نم ہو جاتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: “ہم اب رمضان کی تیاری نہیں کرتے بلکہ محض سانسیں گنتے ہیں۔ آج اگر ایک نوالہ مل گیا تو رب کا شکر ہے، کل کی خبر نہیں۔” بڑھتی ہوئی قیمتوں نے سحر و افطار کی معمولی اشیاء کو بھی خواب بنا دیا ہے۔ ان کا خاندان اب امدادی باورچی خانوں (تکایا) سے ملنے والے محدود کھانے پر گزارا کر رہا ہے، جبکہ گیس کی قلت نے خیموں میں آگ جلانا بھی محال کر دیا ہے۔

رفح سے ہجرت کرنے والے 57 سالہ ریٹائرڈ ملازم ایمن مہنا کہتے ہیں کہ قیمتوں کے اس طوفان اور تنخواہوں کی بندش نے انہیں زندہ درگور کر دیا ہے: “ہم تو مہینوں سے جبری روزے کی حالت میں ہیں، یہ رمضان ہماری اس تلخ حقیقت کو کیا بدلے گا؟”

وہ خالی کرسی اور جدائی کا کرب

غربت اور فاقہ کشی سے بھی زیادہ سنگین وہ زخم ہیں جو اپنوں کی شہادت نے دیے ہیں۔ دیر البلح کے فواد ثابت اس سال اپنے لختِ جگر عبداللہ کے بغیر پہلا رمضان گزار رہے ہیں۔ ان کا بیٹا گذشتہ رمضان کے آخری دن قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں شہید ہو گیا تھا۔

ثابت بتاتے ہیں کہ “عبداللہ عید کے لیے اپنی بہنوں کے نئے کپڑے خریدنے نکلا تھا، مگر وہ کفن پہن کر لوٹا۔ آج ہمارا دسترخوان ادھورا ہے اور اس کی پکار خاموش ہو چکی ہے۔”

اسی طرح منیر ابو العطا کا غم لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے مسجد السلام کے قریب ہونے والی بمباری میں اپنے دونوں جوان بیٹوں کو کھو دیا۔ وہ کہتے ہیں: “افطار کے وقت جب ان کی آوازیں نہیں گونجتیں تو یوں لگتا ہے جیسے روح جسم سے نکل گئی ہو۔ رمضان تو خاندان کی گرمجوشی کا نام تھا، اب تو صرف تنہائی اور یادوں کے خاردار سائے ہیں۔”

معاشی ڈھانچے کی مکمل تباہی

معاشی ماہر ماہر الطباع اس صورتحال کو “مکمل معاشی انہدام” قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق مسلسل جنگ نے بے روزگاری کو 80 فیصد تک پہنچا دیا ہے اور غزہ کی پٹی میں غربت کی لہر نے انسانی تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

اشیاء کی قیمتوں میں 300 فیصد تک کا اضافہ اور مارکیٹوں میں نقد رقم کی قلت نے عوام کی قوتِ خرید کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ اب رمضان معاشی خوشحالی کا سیزن نہیں بلکہ ایک بوجھ بن چکا ہے، جہاں خاندان اپنی بقا کے لیے آخری حدوں تک لڑ رہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan