غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ پٹی میں حکومتی میڈیا دفتر نے سنہ 2025ء کے دوران جاری رہنے والی فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی جنگ کے سائے میں سالانہ جامع اعداد و شمار جاری کیے۔ اس رپورٹ میں انسانی جانوں کے ناقابلِ تلافی نقصانات، وسیع پیمانے پر تباہی اور محاصرے اور منظم بھوک مسلط کیے جانے کے ہولناک اثرات پر مبنی چونکا دینے والے حقائق پیش کیے گئے ہیں۔
ذیل میں وہ اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں جو گذشتہ سال کے دوران غزہ میں جاری نسل کشی کی جنگ کے اثرات کی مکمل تصویر پیش کرتے ہیں۔
آبادی سے متعلق اعدادو شمار اور عمومی پس منظر
غزہ میں 24 لاکھ سے زائد فلسطینی نسل کشی کی جنگ، بھوک کی پالیسیوں اور نسلی تطہیر کا شکار رہے۔
مسلسل 283 دن تک جارحیت جاری رہی۔
سیز فائر کے معاہدے کو 82 دن گزرنے کے باوجود قابض اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں جاری رہیں۔
غزہ کی پٹی کے لگ بھگ 90 فیصد شہری ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا۔
قابض اسرائیلی افواج نے فوجی طاقت کے ذریعے غزہ کے 55 فیصد رقبے پر کنٹرول قائم کر لیا۔
سنہ 2025ء کے دوران غزہ پر ایک لاکھ 12 ہزار ٹن سے زائد بارودی مواد برسایا گیا۔
شہداء، لاپتہ افراد اور قتل عام
شہداء اور لاپتہ افراد کی مجموعی تعداد 29 ہزار 117 تک جا پہنچی۔
25 ہزار 717 شہداء کی لاشیں ہسپتالوں تک پہنچ سکیں۔
3 ہزار 400 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
5 ہزار 437 بچے اور 2 ہزار 475 خواتین شہید ہوئیں۔
بچے، خواتین اور بزرگ مجموعی شہداء کا تقریباً 50 فیصد بنتے ہیں۔
بھوک اور غذائی قلت کے باعث 475 فلسطینی شہید ہوئے جن میں 165 بچے شامل ہیں۔
غلط انداز میں امداد کی فضائی ترسیل کے نتیجے میں 23 فلسطینی شہید ہوئے۔
خوراک اور طبی نگہداشت کی شدید قلت کے باعث 1 ہزار 244 میں سے 622 گردوں کے مریض جان کی بازی ہار گئے۔
4 ہزار 441 سے زائد اسقاطِ حمل کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
پناہ گزین کیمپوں میں شدید سردی کے باعث 4 افراد شہید ہوئے۔
موسمی دباؤ کے دوران تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دب کر 19 فلسطینی شہید ہوئے۔
زخمی اور گرفتاریاں
62 ہزار 853 زخمی ہسپتالوں میں لائے گئے۔
سال بھر میں 2 ہزار 700 سے زائد شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔
صحت کا شعبہ اور سول ڈیفنس
22 ہسپتال مکمل طور پر سروس سے باہر ہو گئے۔
211 ایمبولینس گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
سول ڈیفنس کی 23 گاڑیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں۔
تعلیم اور تعلیمی ادارے
30 تعلیمی ادارے مکمل طور پر تباہ اور 39 جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
غزہ کی 95 فیصد سکول عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
ایک ہزار سے زائد طلبہ شہید ہوئے۔
7 لاکھ 85 ہزار طلبہ تعلیم کے حق سے محروم ہو گئے۔
88 اساتذہ اور 45 ماہرین تعلیم اور محققین شہید ہوئے۔
عبادت گاہیں اور قبرستان
34 مساجد مکمل اور 100 مساجد جزوی طور پر تباہ کر دی گئیں۔
3 گرجا گھروں کو متعدد بار نشانہ بنایا گیا۔
60 میں سے 21 قبرستان تباہ کیے گئے۔
قبرستانوں سے 1 ہزار 700 میتیں چرا لی گئیں۔
رہائش اور جبری نقل مکانی
1 لاکھ 6 ہزار 400 رہائشی یونٹ مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔
66 ہزار رہائشی یونٹ شدید نقصان کے باعث رہائش کے قابل نہ رہے۔
41 ہزار رہائشی یونٹ جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
2 لاکھ 13 ہزار سے زائد خاندان بے گھر ہو گئے۔
تقریباً 20 لاکھ افراد کو جبری طور پر نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔
87 پناہ گاہوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔
بھوک مسلط کرنا، امداد اور علاج کی بندش
220 دن تک تمام سرحدی گزرگاہیں مکمل طور پر بند رہیں۔
1 لاکھ 32 ہزار سے زائد امدادی اور ایندھن کی گاڑیوں کو داخلے سے روکا گیا۔
40 سے زائد خیراتی کچن اور 50 امدادی تقسیم مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
500 امدادی کارکن اور رضاکار شہید ہوئے۔
نام نہاد امدادی جالوں میں 2 ہزار 605 فلسطینی شہید اور 19 ہزار 124 زخمی ہوئے۔
6 لاکھ 50 ہزار بچے بھوک سے موت کے خطرے سے دوچار ہیں۔
40 ہزار نومولود خوراک کی عدم دستیابی کے باعث زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
22 ہزار مریضوں کو علاج کے لیے سفر سے روک دیا گیا۔
5 ہزار 200 بچے فوری طبی انخلا کے منتظر ہیں۔
17 ہزار سے زائد مریض علاج کے لیے اجازت کے منتظر ہیں۔
12 ہزار 500 کینسر کے مریضوں کو موت کا شدید خطرہ لاحق ہے۔
3 لاکھ 50 ہزار دائمی مریض ادویات سے محروم رہے۔
47 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین شدید طبی خطرات سے دوچار ہوئیں۔
بنیادی ڈھانچہ اور عوامی سہولیات
700 سے زائد پانی کے کنویں تباہ کر دیے گئے۔
3 ہزار 80 کلومیٹر بجلی کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا۔
4 لاکھ میٹر پانی کی لائنیں تباہ ہو گئیں۔
4 لاکھ میٹر سیوریج نیٹ ورک برباد کر دیا گیا۔
20 لاکھ میٹر سے زائد سڑکیں تباہ ہوئیں۔
150 سرکاری عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
250 کھیلوں اور ثقافتی مراکز تباہ کر دیے گئے۔
208 تاریخی اور آثارِ قدیمہ کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
زراعت، مویشی اور ماہی گیری
1 لاکھ 78 ہزار دونم میں سے 80 فیصد سے زائد زرعی زمین تباہ ہو گئی۔
1 ہزار زرعی کنویں تباہ کیے گئے۔
گائے، بھیڑ اور مرغیوں کے 500 فارم مکمل طور پر برباد کر دیے گئے۔
سبزیوں کی کاشت 93 ہزار دونم سے کم ہو کر صرف 4 ہزار دونم رہ گئی۔
60 فیصد زرعی گرین ہاؤسز تباہ ہو گئے۔
ماہی گیری کا شعبہ 100 فیصد متاثر ہوا۔
اقتصادی نقصانات
سنہ 2025ء کے دوران 15 اہم شعبوں میں ابتدائی براہِ راست نقصانات کا تخمینہ 33 ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے۔
حکومتی میڈیا دفتر نے زور دے کر کہا کہ یہ اعداد و شمار غزہ میں جاری ایک بے مثال انسانی المیے کی عکاسی کرتے ہیں۔ دفتر نے اس تباہی کی مکمل ذمہ داری قابض اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ان جرائم کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
