Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

نئے سال میں صہیونی منصوبے، مغربی کنارے پر آبادکاری اور فوجی کنٹرول میں اضافہ

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے سنہ 2026ء کے لیے تیار کردہ آبادکاری منصوبے اس تیز رفتار رجحان کو بے نقاب کرتے ہیں جس کا مقصد مغربی کنارے پر اپنی گرفت کو مستقل بنانا ہے۔ ان منصوبوں کے تحت نئی بستیوں میں صہیونی خاندانوں کی منتقلی اور بے قاعدہ آبادکاری چوکیوں کو قانونی حیثیت دینا شامل ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق یہ سیاسی اور سکیورٹی تناظر ایک ایسے زمینی الحاق کو مضبوط بنا رہا ہے جو بتدریج آگے بڑھ رہا ہے اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کے قیام کے ہر امکان کو سبوتاژ کر رہا ہے۔

عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق بدھ کے روز قابض اسرائیلی حکومت ان صہیونیوں کو ان آبادکاری چوکیوں میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جنہیں باقاعدہ بستیاں قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ اقدام وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے ان وعدوں کا تسلسل ہے جو انہوں نے اپنی اتحادی حکومت کے معاہدوں میں مذہبی صہیونیت پارٹی کے ساتھ کیے تھے، جن کے تحت مغربی کنارے میں 70 نئی بستیاں قائم کی جانی ہیں۔

اب تک قابض اسرائیلی حکومت 69 آبادکاری چوکیوں کے قیام اور قانونی حیثیت کی منظوری دے چکی ہے، جن میں لگ بھگ 20 نئی بستیاں شامل ہیں۔

سنہ 2025ء کے دوران مغربی کنارہ قابض فوج اور آبادکاروں کے حملوں میں غیر معمولی اضافے کا گواہ بنا۔ چھاپوں کی شدت، گھروں کی مسماری اور مقامی آبادی کی جبری بے دخلی میں اضافہ اس منظم پالیسی کا واضح ثبوت ہے جس کے ذریعے قابض اسرائیل آبادکاری کو پھیلا کر زمین پر نیا سفاکانہ واقعہ مسلط کر رہا ہے۔

منصوبے کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صہیونی خاندانوں کو ان چوکیوں میں عارضی عمارتوں میں بسایا جائے گا، بعد ازاں مستقل رہائشی یونٹس، تعلیمی اور مذہبی ادارے تعمیر کیے جائیں گے اور اندرونی سڑکیں بنائی جائیں گی، تاکہ زمین پر آبادکاری وجود کو ناقابل واپسی بنایا جا سکے۔

اخبار نے آبادکاروں کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ سنہ 2025ء فیصلوں کا سال تھا، جبکہ سنہ 2026ء عملی نفاذ کا سال ہوگا۔

یہ منصوبے زمین پر عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، جن میں قابض حکومت کی جانب سے شمالی مغربی کنارے میں علیحدگی کے قانون کا خاتمہ اور سنہ 2005ء میں خالی کی گئی چار بستیوں حومش، سا نور، گانیم اور کدیم کی دوبارہ تعمیر کا آغاز شامل ہے۔

اسی دوران قابض فوج ان علاقوں میں فوجی سڑکیں کاٹ رہی ہے اور اپنے کیمپ منتقل کر رہی ہے، جس سے اس کی مستقل موجودگی مضبوط ہو رہی ہے اور آبادکاری کو فوجی پھیلاؤ کے لیے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

فلسطینی قصبات کا محاصرہ

اسی تناظر میں یہ منصوبے فلسطینی شہروں اور قصبات کو الگ تھلگ کرنے پر بھی مشتمل ہیں، جن میں سرفہرست شہر اریحا ہے۔ اس کے گرد آبادکاری کا ایک گھیرا قائم کیا جا رہا ہے، جن میں نام نہاد کھجوروں کا شہر بھی شامل ہے، جو حریدی آبادکاروں کے لیے مخصوص ہے۔ اس کے ساتھ دیگر بستیاں بھی قائم کی جا رہی ہیں تاکہ شہر کو اس کے فلسطینی ماحول سے کاٹ دیا جائے۔ اخبار کے مطابق یہی ماڈل بعد میں وادی اردن، پھر جنوبی جبل الخلیل اور رام اللہ کے اطراف اور شمال مشرقی القدس گورنری کے علاقوں میں نافذ کیا جائے گا۔

آبادکار قیادت ان منصوبوں کو نام نہاد سکیورٹی جواز فراہم کرتی ہے اور سات اکتوبر کے طوفان الاقصیٰ کے بعد صہیونی سکیورٹی نظریے میں تبدیلی کا حوالہ دیتی ہے، تاہم عملی طور پر یہ جواز فلسطینی دیہات کے قلب میں آبادکاری کے پھیلاؤ، زرعی فارموں اور مذہبی اداروں کی آڑ میں سامنے آتا ہے، جہاں طلبہ کو اسلحے کے استعمال کی تربیت دی جاتی ہے۔ ان میں سے بعض منصوبے اردن کی سرحد کے قریب ہیں، جیسے اریحا کے شمال میں العوجا گاؤں کے قریب تیار کیا گیا منصوبہ۔

یہ سرگرمیاں اس قانون کے بعد مزید تیز ہو گئیں جو جون 2023ء میں منظور کیا گیا، جس کے تحت آبادکاری کی تعمیر کے مراحل کے لیے وزیر اعظم اور وزیر سکیورٹی کی منظوری کی شرط ختم کر دی گئی اور صرف سیاسی اور سکیورٹی کابینہ کی منظوری کو کافی قرار دیا گیا۔

اسی طرح قابض فوج کے ماتحت نام نہاد سول انتظامیہ کو ایک ایسی شہری انتظامیہ میں منتقل کیا گیا جو وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ کے زیر اثر ہے، جو وزارت سکیورٹی میں بھی وزیر اور آبادکاری فائل کے نگران ہیں۔ اس تبدیلی سے وسیع اختیارات سول اداروں کو منتقل ہوئے جن کی قیادت ان کی قائم کردہ ڈائریکٹوریٹ آف سیٹلمنٹس کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹس خبردار کرتی ہیں کہ آبادکاری کی یہ تیز رفتاری، خصوصاً القدس اور مغربی کنارے کے درمیان واقع علاقوں جیسے E1 منصوبے میں، شمالی مغربی کنارے کو جنوب سے کاٹنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ اس کے ساتھ قابض فوج کی تعیناتی بڑھائی جا رہی ہے تاکہ نئی آبادکاری بلاکس کو تحفظ دیا جا سکے، جس کے نتیجے میں فلسطینی جغرافیہ ٹکڑوں میں بٹ رہا ہے اور شہر و قصبات الگ تھلگ جزیروں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ اس راستے کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتی ہے اور کہتی ہے کہ اس سے دو ریاستی حل تقریباً مکمل طور پر دفن ہو چکا ہے۔

حقیقی آبادکاری الحاق

اس پس منظر میں یدیعوت احرونوت نے آبادکار عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ الحاق عملاً نافذ ہو چکا ہے اور اب صرف اس کا باضابطہ اعلان باقی ہے۔ ان کے مطابق نئی بستیوں کا قیام ایک اسٹریٹجک تجزیے کے بعد کیا گیا جس کا مقصد فلسطینی جغرافیائی رابطے کو توڑنا ہے۔

ادھر تحریک سلام اب نے خبردار کیا ہے کہ یہ تمام حقائق اس امر میں کسی شک کی گنجائش نہیں چھوڑتے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ عملی الحاق ہے۔ تنظیم کے مطابق بنجمن نیتن یاھو کی موجودہ حکومت نے اپنی مدت کے دوران 69 بستیاں اور 150 آبادکاری چوکیوں کا قیام عمل میں لایا، 45 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس کی منظوری دی اور تقریباً 200 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کیں۔

تحریک کے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینی عمارتوں کی مسماری کی شرح سنہ 2010ء سے 2022ء کے درمیان اوسطاً 537 عمارتیں سالانہ تھی، جو سنہ 2022ء کے بعد سے سنہ 2025ء تک بڑھ کر 966 عمارتیں سالانہ ہو گئی۔

اقوام متحدہ اور صہیونیت مخالف اسرائیلی رپورٹس کے مطابق یہ تمام حقائق اس نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سنہ 2026ء ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے، جس میں نئی آبادکاری حقیقتیں مسلط کی جائیں گی، قابض فوجی پھیلاؤ کو مضبوط کیا جائے گا اور مغربی کنارے میں جغرافیائی تقسیم کو مزید گہرا کیا جائے گا، تاکہ کسی بھی ممکنہ سیاسی عمل سے پہلے زمین پر قبضے کی جنگ کو حتمی شکل دی جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan