Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

نئے سال میں بھی غزہ محفوظ نہیں، نسل کشی اور پابندیاں جاری

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یورو میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں نہایت خطرناک سطح پر جارحانہ اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے سنہ 2026ء کو نمایاں عالمی امدادی اداروں پر اجتماعی پابندی عائد کر کے شروع کیا ہے جو پہلے ہی تباہ حال انسانی صورت حال کو مزید سنگین بنا دے گا۔

مانیٹر نے جمعرات کو جاری صحافتی بیان میں وضاحت کی کہ قابض اسرائیل کا وہ فیصلہ جس کے تحت غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں کام کرنے والی متعدد بین الاقوامی تنظیموں کے اجازت نامے منسوخ کیے گئے ہیں براہ راست انسانی امدادی ردعمل کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ یہ اقدام زندگی بچانے والی امداد کے راستے مسدود کرتا ہے اور ایسے اجازت نامہ جاتی نظام پر مبنی ہے جو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ خاص طور پر ان بین الاقوامی انسانی تنظیموں کو نشانہ بناتا ہے جو غزہ میں امدادی سرگرمیوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں بالخصوص ایسے وقت میں جب فلسطینی مہاجرین کے لیے امدادی ادارے ’انروا‘ کے کردار کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے۔

مانیٹر نے زور دے کر کہا کہ یہ قدم غزہ کی پٹی میں صحت اور امدادی نظام کے بچے کھچے ڈھانچے کے تیز تر انہدام کا باعث بنے گا اور جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کر کے نسل کشی کے جرم کو مزید گہرا کرے گا جن کا مقصد آبادی کو تباہ کرنا اور انہیں جبری بے دخلی کی طرف دھکیلنا ہے۔

اس نے نشاندہی کی کہ انسانی تنظیموں پر پابندی کا عملی مطلب یہ ہے کہ زندگی کے بنیادی علاج کی صلاحیتوں کا خاتمہ ہو جائے گا جس کے نتیجے میں ہر تین میں سے ایک طبی مرکز بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ بیان کے مطابق شدید اور پیچیدہ غذائی قلت کے علاج کے تمام پانچ مراکز مکمل طور پر انہی تنظیموں کے تعاون پر انحصار کرتے ہیں۔

یورو میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے توجہ دلائی کہ غزہ کی پٹی کو پہلے ہی محدود بین الاقوامی موجودگی سے تقریباً خالی کرنا ایک بیوروکریٹک پردے میں کیا جا رہا ہے جس کا مقصد آبادی کو مکمل تنہائی میں دھکیلنا اور کسی بھی ایسے بیرونی وجود کو ختم کرنا ہے جو انسانی امداد فراہم کر سکے یا آزاد نگرانی کو یقینی بنا سکے۔

مانیٹر کے مطابق یہ اقدامات اپنی اصل میں فلسطینیوں سے استقامت اور بقا کے آخری وسائل چھیننے کی کوشش ہیں جن کے ذریعے انسانی تنظیموں کے کام کو معطل کیا جا رہا ہے امدادی چینلز کو مفلوج کیا جا رہا ہے اور زندگی بچانے والی رسائی کو روکا جا رہا ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی تنظیموں کی رجسٹریشن کے لیے عائد کی گئی نئی شرائط محض انتظامی یا فنی تقاضے نہیں بلکہ ایسی شرطی ساخت پر مبنی ہیں جو قبول یا اخراج کے اوزار کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں اور جن میں تعزیری نوعیت کے معیارات شامل ہیں۔

مانیٹر نے کہا کہ قابض اسرائیل کا نام نہاد انسانی متبادل کا دعویٰ محض گمراہ کن بیانیہ ہے کیونکہ کوئی بھی مقامی یا بین الاقوامی فریق ایسا نہیں جو اس خلا کو پُر کرنے کی لاجسٹک صلاحیت یا بنیادی ڈھانچہ رکھتا ہو خاص طور پر اس وقت جب قابض حکام انسانی کام پر مسلسل مزید پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔

یورو میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے زور دیا کہ یہ فیصلہ 28 مارچ 2024ء کو عالمی عدالت انصاف کی جانب سے جاری کردہ لازمی عبوری احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے جن کے تحت اسرائیل کو شہری آبادی کے لیے بنیادی خدمات کی فوری اور مؤثر فراہمی یقینی بنانے کا پابند کیا گیا تھا۔

اختتام پر مانیٹر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ محض تشویش اور مذمت کے بیانات سے آگے بڑھتے ہوئے ٹھوس اور لازمی عملی اقدامات کرے تاکہ غزہ کی پٹی میں جاری سنگین خلاف ورزیوں کا خاتمہ کیا جا سکے اور قابض اسرائیل کے اس فیصلے کی عدم قانونی حیثیت کو واضح کیا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan