Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

موسمی آفت نے غزہ کی مشکلات بڑھا دیں، خیمے پانی میں ڈوب گئے

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جہاں پہلے ہی قابض اسرائیلی جارحیت اور تباہی نے زندگی کو ناقابل برداشت بنا رکھا ہے۔

غزہ پٹی کے شمال میں واقع بلدہ بیت لاہیا میں تیز ہواؤں کے باعث ایک دیوار گرنے سے ایک کمسن بچہ زخمی ہو گیا، جو اس بات کی ایک اور دردناک مثال ہے کہ کس طرح فطری آفات بھی یہاں انسانی المیے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔

اسی طرح نشیبی علاقوں میں قائم بے گھر فلسطینیوں کے خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے، جبکہ آندھی نے متعدد خیمے اکھاڑ پھینکے۔ اس کے نتیجے میں بچوں سمیت کئی خاندان سرد موسم میں کھلے آسمان تلے نکلنے پر مجبور ہو گئے۔

بے گھر فلسطینی سخت سردی اور تیز ہواؤں کے درمیان نہایت کٹھن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہزاروں افراد نائلون اور باریک کپڑے سے بنے خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو بارش اور طوفانی ہواؤں سے بچاؤ کی معمولی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ ان میں سے بیشتر سڑکوں، کھیل کے میدانوں، کھلے چوراہوں اور سکولوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جہاں سردی اور آندھی سے بچنے کا کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں۔

ایندھن کی شدید قلت نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، کیونکہ رات کے وقت درجہ حرارت میں نمایاں کمی کے باعث خاندان کسی بھی طرح حرارت کا انتظام کرنے سے قاصر ہیں۔ اکثر شہری مجبوری کے عالم میں ان عمارتوں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور کسی بھی وقت گر سکتی ہیں، کیونکہ قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی ہیں اور متبادل کے طور پر موبائل گھروں، تعمیراتی سامان اور تعمیر نو کے مواد کی غزہ میں آمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan