Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

موساد کی خفیہ سرگرمیوں کا پردہ فاش، ترکیہ میں دو ایجنٹ حراست میں

استنبول – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ترکیہ کے سکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ترک انٹیلی جنس ادارے نے حالیہ کارروائی کے دوران موساد کے لیے کام کرنے والے دو جاسوسوں کو گرفتار کر لیا ہے جن میں ایک ترک شہری جبکہ دوسرا فلسطینی نژاد ترک شہری شامل ہے۔

ترک ذرائع ابلاغ جن میں جریدہ صباح بھی شامل ہے نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ترک خفیہ ادارے نے “مونیتوم” نامی آپریشن کے تحت استنبول میں محمد بوداک دریا اور فیصل کریم اوغلو کو گرفتار کیا جو موساد کے مفادات کے لیے کام کر رہے تھے۔

ترک میڈیا کے مطابق دونوں ملزمان برسوں سے تجارت کی آڑ میں موساد کو معلومات فراہم کر رہے تھے۔ تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ انہوں نے ایک تیسرے ملک میں خفیہ ملاقاتیں کیں، خفیہ مواصلاتی نظام استعمال کیے اور بین الاقوامی سپلائی چین میں دراندازی کے لیے جعلی کمپنیاں قائم کرنے کے منصوبے بنائے۔ ان کی گرفتاری نے ترکیہ میں موساد کے نیٹ ورک کو ایک خطرناک مرحلے تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا۔

تفصیلات کے مطابق ترک انٹیلی جنس نے استنبول پراسیکیوٹر آفس اور انسداد دہشت گردی ونگ کے تعاون سے تحقیقات کے بعد دونوں جاسوسوں کو گرفتار کیا۔ معلوم ہوا کہ کان کنی کے انجینئر محمد بوداک دریا نے سنہ 2005ء میں قائم اپنی کمپنی کے تحت جنوبی ترکیہ کی ریاست مرسین کے علاقے سیلیفکی میں سنگ مرمر کی کان کھولی، بعد ازاں وہ بین الاقوامی تجارت کی طرف مائل ہوا اور مختلف ممالک سے تجارتی روابط قائم کیے۔

ان تجارتی سرگرمیوں نے موساد کی توجہ حاصل کی۔ ستمبر سنہ 2012ء میں اسرائیل کی قائم کردہ ایک جعلی کمپنی کے لیے کام کرنے والا شخص، جو “علی احمد یاسین” کا فرضی نام استعمال کرتا تھا، بوداک دریا کے دفتر پہنچا اور اسے تعاون کی پیشکش کی۔ جنوری سنہ 2013ء میں یورپ میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران اس کے موساد ایجنٹوں سے براہ راست روابط قائم ہو گئے۔

ان ملاقاتوں کے دوران “لوئس” نامی ایک موساد ایجنٹ نے بوداک دریا سے فیصل کریم اوغلو کو بھرتی کرنے کا مطالبہ کیا جو فلسطینی نژاد ترک شہری تھا۔

دونوں افراد کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی مشترکہ سرگرمیوں سے متعلق معلومات باقاعدگی سے موساد کو فراہم کریں۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بوداک دریا سنہ 2013ء سے یورپ کے ایک تیسرے ملک میں موساد ایجنٹوں سے خفیہ ملاقاتیں کرتا رہا۔ ان ایجنٹوں کے فرضی نام لوئس، خیسوس یا خوسیہ، ڈاکٹر روبرتو یا ریکارڈو، دان یا ڈینس، مارک، ایلی یا ایمی اور مائیکل بتائے گئے۔

تحقیقاتی فائل کے مطابق بوداک دریا نے فیصل کریم اوغلو کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنے تجارتی روابط کو وسعت دی اور قابض اسرائیل کی علاقائی پالیسیوں کے مخالف فلسطینیوں سے سماجی و تجارتی تعلقات قائم کیے، بعد ازاں ان افراد سے حاصل معلومات موساد کو منتقل کی جاتی رہیں۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس نے غزہ میں داخلے کا اجازت نامہ حاصل کرنے کی کوشش کی، علاقے کے گوداموں کی خفیہ نگرانی کی اور وہاں لی گئی تصاویر موساد کو ارسال کیں۔

سنہ 2016ء میں فیصل کریم اوغلو جو سنگ مرمر کی تجارت سے ہٹ کر دیگر شعبوں میں توسیع کا خواہاں تھا، اس نے بوداک دریا کو ڈرون طیاروں کے پرزہ جات کی تجارت کی تجویز دی۔ یہ تجویز موساد تک پہنچائی گئی جس نے ابتدائی نمونے بھی فراہم کیے۔ تحقیقاتی فائل میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ دونوں ملزمان نے ڈرون طیارے تیونسی انجینئر محمد الزواری کو فروخت کرنے کی کوشش کی تھی جنہیں موساد نے سنہ 2016ء میں تیونس میں شہید کر دیا تھا۔

تحقیقات نے موساد کے خفیہ طریقہ کار کا ایک اور پہلو بھی بے نقاب کیا۔ بوداک دریا کو خفیہ مواصلاتی نظام فراہم کیے گئے اور اس کا دو مرتبہ پولی گراف ٹیسٹ لیا گیا۔ پہلا سنہ 2016ء میں ایک ایشیائی ملک میں جبکہ دوسرا اگست سنہ 2024ء میں یورپ کے ایک ہوٹل میں ہوا۔ دونوں ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد اس نیٹ ورک کو مزید فعال مرحلے میں داخل کیا گیا۔

اس دوران بوداک دریا نے میک کمپیوٹرز کے سیریل نمبرز، آئی پی ایڈریسز، سم کارڈز کی تکنیکی معلومات، موڈم اور روٹر ڈیوائسز کے ڈیٹا کی تصاویر لے کر موساد کو فراہم کیں جو اس نے ترکیہ اور دیگر ممالک سے حاصل کی تھیں۔

تحقیقات کے مطابق گذشتہ ماہ ہونے والی آخری ملاقات میں بوداک دریا کی نگرانی میں ایک جعلی کمپنی قائم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا جس کا مقصد عالمی تجارتی سپلائی چین میں دراندازی تھا۔ منصوبے کے تحت مصنوعات کی خریداری، پیکنگ، ذخیرہ اندوزی اور حتمی ترسیل موساد کے لیے انجام دی جانی تھی جبکہ اس مقصد کے لیے ایشیا میں قائم تین کمپنیوں کو استعمال کیا جانا تھا۔ جعلی کمپنی کے بینک اکاؤنٹ، ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔

طویل نگرانی کے بعد ترک انٹیلی جنس، استنبول پراسیکیوٹر آفس اور انسداد دہشت گردی ونگ کی مشترکہ کارروائی میں محمد بوداک دریا اور فیصل کریم اوغلو کو گرفتار کر لیا گیا۔

ترک میڈیا کے مطابق اس آپریشن نے موساد سے وابستہ ایک تنظیم کو ترکیہ میں مستقل مرکز قائم کرنے اور انتہائی حساس مرحلے تک پہنچنے سے روک دیا۔ جاری تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ موساد سپلائی اور مینوفیکچرنگ کمپنیوں میں دراندازی کے ذریعے لبنانی حزب اللہ کے عناصر اور قیادت کا سراغ لگانے کی حکمت عملی اپناتا رہا ہے۔ اسی طریقہ کار کے تحت پیجر اور وائرلیس مواصلاتی آلات کی کھیپوں میں جاسوسی آلات اور دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا جس کے نتیجے میں سنہ 2024ء میں حزب اللہ اور ان سے وابستہ ایرانی عناصر کے سینکڑوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan