مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے ماہِ صیام کی فضیلتوں کو سمیٹنے اور مسجد اقصیٰ کو قابض دشمن کے مذموم منصوبوں اور آباد کاروں کے ناپاک عزائم سے بچانے کے لیے عوامی سطح پر متحرک رہنے اور قبلہ اول میں پہرہ دینے (رباط) میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ اپیل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قابض صیہونی فوج نے فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ تک رسائی میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کے موقع پر ہزاروں فرزندانِ توحید کو نماز کی ادائیگی سے روک دیا۔
حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مجرم قابض صیہونی دشمن مسجد اقصیٰ آنے والے نمازیوں کو سخت فوجی اقدامات اور مسلسل خلاف ورزیوں کے ذریعے دانستہ طور پر تذلیل کا نشانہ بنا رہا ہے۔ ان اقدامات میں نمازیوں کی تعداد کو محض دس ہزار تک محدود کرنا اور عمر و اجازت ناموں کے بہانے فلسطینیوں کے داخلے پر ظالمانہ پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔ یہ عمل آزادیِ عبادت کی کھلی خلاف ورزی اور مبارک مسجد میں اسے یہودیانے کے حقائق مسلط کرنے کی ایک بے نقاب کوشش ہے۔
حماس نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کی تعداد کم کرنے کے لیے قابض دشمن کی مسلسل رکاوٹیں اور اقدامات ہمارے عوام کے ارادوں کو توڑنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور نہ ہی انہیں قبلہ اول اور تیسرے حرم شریف کی طرف رختِ سفر باندھنے سے روک سکیں گے۔
بیان میں ان تمام افراد پر زور دیا گیا ہے جو مسجد اقصیٰ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں کہ وہ اس کے گرد منڈلاتے ہوئے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر وہاں پہرہ دینے اور اس کے دفاع کا اعزاز حاصل کرنے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالیں۔
اسی طرح حماس نے مقبوضہ بیت المقدس اور مقبوضہ اندرونی علاقوں میں مقیم اپنے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ماہِ فضیلت کے ایام کو قابض اسرائیل اور آباد کاروں کی جانب سے ہماری اسلامی مقدسات کے خلاف جاری صیہونی رنگ میں رنگنے کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے وقف کریں اور مسجد اقصیٰ پر اپنے غیر متزلزل مذہبی اور تاریخی حق کی توثیق کریں۔
