مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں غاصب صہیونی آباد کاروں اور قابض اسرائیلی افواج نے وحشیانہ حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں کئی فلسطینی زخمی ہوئے اور املاک سمیت زرعی اراضی کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا۔
القدس گورنری کی رپورٹ کے مطابق وحشی آباد کاروں نے القدس کے شمال مشرق میں واقع گاؤں مخماس پر دھاوا بولا اور ایک 70 سالہ بزرگ شہری کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، جنہیں ہلال احمر فلسطین کے طبی عملے نے جائے وقوعہ پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔
واضح رہے کہ مخماس گاؤں اور اس کے گردونواح میں واقع بدو بستیوں کو قابض اسرائیلی افواج کی سرپرستی میں آباد کاروں کے مسلسل حملوں کا سامنا ہے، جن کے دوران نہ صرف نہتے شہریوں پر تشدد کیا جاتا ہے بلکہ ان کی رہائش گاہوں، مویشیوں کے باڑوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے سمیت سولر پینل اور حفاظتی کیمرے توڑ دیے جاتے ہیں یا قابض دشمن انہیں اپنے قبضے میں لے لیتا ہے۔
اسی تناظر میں پیر کی شام آباد کاروں نے رام اللہ کے مغرب میں واقع دیہاتوں دیر ابزیع اور صفا کے درمیانی علاقے میں فلسطینیوں کی زمینوں پر دھاوا بولا اور بیت عور التحتا گاؤں کے کئی شہریوں کو اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ اپنی زمینوں پر موجود تھے۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی افواج نے سلفیت کے شمال میں واقع مردا گاؤں کی زمینوں سے زیتون کے سینکڑوں درخت اکھاڑ پھینکے، جس میں علاقے کی مرکزی شاہراہ کے ساتھ واقع وسیع اراضی کو نشانہ بنایا گیا۔
مقامی ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ یہ سفاکانہ حملے اس مسلسل جاری سلسلے کا حصہ ہیں جس کے تحت پہلے بھی ڈیراستیا، کفل حارس اور مردا کے قصبوں کو ملانے والی سڑک کے ساتھ ساتھ سینکڑوں درخت اکھاڑے جا چکے ہیں، جس کا مقصد فلسطینی زمینوں کو نشانہ بنا کر کسانوں کو ناقابل تلافی معاشی نقصان پہنچانا ہے۔
اسی دوران مرکزاطلاعات فلسطین “معطی” نے قابض دشمن کی انسانیت سوز خلاف ورزیوں میں غیر معمولی اضافے کی نشاندہی کی ہے، جس کے مطابق 27 مارچ سے 2 اپریل سنہ 2026ء کے درمیانی عرصے میں قابض اسرائیلی افواج اور آباد کاروں کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں 1385 حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
