Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مغربی کنارے سے ایک ماہ میں 900 سے زائد فلسطینیوں کی جبری بے دخلی

مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی خطرناک حد تک بلند سطح پر جاری ہے جہاں صہیونی دہشت گردوں کے تشدد اور گھروں کی مسماری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارے نے تصدیق کی ہے کہ سنہ 2026ء کے آغاز سے اب تک 900 سے زائد فلسطینیوں کو زبردستی اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجاریک نے بتایا کہ بے دخل کیے جانے والے فلسطینیوں کی یہ بڑی تعداد زیادہ تر صہیونی آباد کاروں کے تشدد اور آمد و رفت پر عائد سخت پابندیوں کا نتیجہ ہے خصوصاً گھروں کی مسماری کے ذریعے فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ رجحان تشویشناک حد تک تیز ہوا ہے۔

اسٹیفن ڈوجاریک نے ایک پریس بریفنگ میں وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کی ہم آہنگی اوچا نے 20 جنوری سے گذشتہ پیر تک کے عرصے میں 50 سے زائد ایسے حملے دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیے ہیں جو صہیونی شرپسندوں نے انجام دیے۔ ان حملوں کے نتیجے میں فلسطینی شہری زخمی ہوئے یا ان کی املاک کو نقصان پہنچا یا دونوں صورتیں سامنے آئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ ان واقعات کے بعد نقصانات اور ضروریات کا ابتدائی جائزہ لے رہی ہے تاکہ انسانی امدادی ردعمل کو درست سمت دی جا سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین پر لازم ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی کریں خصوصاً شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے حوالے سے۔

یہ انتباہات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اقوام متحدہ قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نافذ سیز فائر معاہدے کے انسانی پروٹوکول کی خلاف ورزیوں پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ یہ پروٹوکول سنہ 2025ء اکتوبر کی 10 تاریخ سے نافذ العمل ہے اور اس کا تعلق ایندھن انسانی امداد اور ملبہ ہٹانے کے آلات کی فراہمی سے ہے جس میں مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔

اسی تناظر میں دوجاریک نے بتایا کہ غزہ میں 18 ہزار 500 سے زائد مریض ایسے ہیں جنہیں فوری طور پر ایسے خصوصی علاج کی ضرورت ہے جو مقامی طور پر دستیاب نہیں۔ انہوں نے عالمی ادارہ صحت اور اس کے شراکت داروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے بتایا کہ رفح کراسنگ کے ذریعے 8 مریضوں اور 17 تیمارداروں کو مصر منتقل کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے مطالبہ دہرایا کہ مریضوں کو مقبوضہ مغربی کنارے منتقل کرنے کے راستے دوبارہ کھولے جائیں جن میں مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی حصے کے ہسپتال بھی شامل ہیں تاکہ غزہ کے تباہ حال صحت کے نظام پر دباؤ کم کیا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan