تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کو ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے نتیجے میں اب تک تقریباً 65 ارب شیکل (تقریباً 21 ارب ڈالر) کا براہ راست عسکری اور شہری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق یہ نقصانات صہیونی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں جبکہ شرح نمو میں کمی اور بڑھتی ہوئی افراط زر جیسے وسیع تر اثرات کا تخمینہ لگانا ابھی باقی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف عسکری اخراجات 50 ارب شیکل سے تجاوز کر گئے ہیں جبکہ براہ راست شہری نقصانات کی مالیت 10 ارب شیکل ہے۔ اس کے علاوہ معاشی سرگرمیاں معطل ہونے اور 40 دن کی لڑائی کے دوران ایک ہزار سے زائد مقامات پر میزائل گرنے سے کاروباری شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اخبار کے مطابق جنگ کے ایک دن کا اوسط خرچ ایک ارب شیکل رہا جو ابتدائی ہفتوں میں 1.8 ارب شیکل روزانہ تک جا پہنچا تھا۔
ان اخراجات میں دسیوں ہزار ریزرو فوجیوں کی بھرتی اور گولہ بارود کا بے دریغ استعمال شامل ہے۔ صہیونی فوج اب اپنے بجٹ میں مزید 15 ارب شیکل اضافے کے لیے بنجمن نیتن یاھو حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری جنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے فوجیوں کی بحالی اور معاوضوں کی ادائیگی کی جا سکے۔ اس صورتحال میں قابض حکومت کے پاس بجٹ خسارے میں اضافے یا وزارتوں کے اخراجات میں کٹوتی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا جس سے بڑے تعمیراتی منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک جنگ کے مجموعی اخراجات 350 ارب شیکل سے تجاوز کر چکے ہیں جبکہ معاشی ترقی کی شرح میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ عسکری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ لڑائی کے دوران ایران کی جانب سے تقریباً 650 میزائل فائر کیے گئے جن میں سے متعدد میزائل براہ راست گنجان آباد علاقوں میں گرے جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔
