مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امناء الاقصیٰ فاؤنڈیشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنانے والے قابض دشمن کے منصوبوں کا مقابلہ کرنا ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، جس کے لیے بیداری، موقف کی یکجہتی اور مختلف سطحوں پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
ادارے نے واضح کیا کہ مسجد اقصیٰ کو براہ راست نشانہ بنانے والے پے در پے منصوبے ایک ایسے خطرناک واقعے کی نشاندہی کرتے ہیں جس کے دوران قابض اسرائیل حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زمین پر نئے حقائق مسلط کرنا چاہتا ہے۔
فاؤنڈیشن نے خبردار کیا ہے کہ قبلہ اول اس وقت شدید خطرے میں اور ایک بڑی سازش کے نرغے میں ہے، لہٰذا امت مسلمہ کو بیدار رہنا چاہیے اور مسجد اقصیٰ کی نصرت کے لیے مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس امت کے علمائے کرام اور ائمہ مساجد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو اس مرحلے کی سنگینی سے آگاہ کریں اور اس مقدس مہینے میں اللہ کے گھروں کا رخ کرنے والے نمازیوں تک شعور اور حقائق پہنچائیں، کیونکہ یہ مہینہ رباط اور مساجد سے جڑے رہنے کا مہینہ ہے۔
ادارے نے اسلامی تعاون تنظیم، جو سنہ 1969 میں مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کرنے کے جرم کے بعد قائم کی گئی تھی، اور تمام عرب و اسلامی حکومتوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں اور اپنی تاریخی ذمہ داری نبھاتے ہوئے قابض اسرائیل پر فوری اور سنجیدہ دباؤ ڈالیں تاکہ مسجد اقصیٰ کو فی الفور کھولا جائے اور اسے نشانہ بنانے والے تمام اقدامات روکے جا سکیں۔
