Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مسجد اقصیٰ کی حرمت پامال کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے: اردن

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اردن کی وزارت خارجہ اور امور تارکین وطن نے قابض اسرائیلی وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر دھاوے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس قدم کو بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

وزارت نے ایک سرکاری بیان میں اس دھاوے کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے مسجد اقصیٰ کی حرمت اور وہاں کے تاریخی و قانونی طور پر رائج “اسٹیٹس کو” کی پامالی قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان فواد المجالی نے زور دے کر کہا کہ قابض اسرائیلی حکام مسجد اقصیٰ میں زمانی اور مکانی تقسیم مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کرد کہ مقبوضہ القدس اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدسات پر قابض اسرائیل کی کوئی خود مختاری تسلیم نہیں کی جائے گی۔

المجالی نے نمازیوں کے لیے مسجد اقصیٰ کی مسلسل تالا بندی اور عبادت کی آزادی پر پابندیوں کی دوبارہ مذمت کی، جو ایک قابض قوت کے طور پر بین الاقوامی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے ان اقدامات کے جاری رہنے سے پیدا ہونے والے سنگین نتائج سے بھی خبردار کیا۔

انہوں نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ مسجد اقصیٰ اپنی 144 کنال کی تمام تر وسعت کے ساتھ صرف اور صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اور اردنی وزارت اوقاف سے وابستہ القدس اوقاف کا ادارہ ہی وہ واحد قانونی اتھارٹی ہے جو اس کے معاملات چلانے اور وہاں داخلے کو منظم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ ایتمار بن گویر نے قابض افواج کی بھاری نفری کے حصار میں باب المغاربہ کے راستے مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بولا اور باب السلسلہ تک اشتعال انگیز گشت کرنے کے بعد وہاں سے روانہ ہوا۔

یہ اشتعال انگیزی آباد کار گروہوں کی جانب سے دھاووں میں تیزی لانے کی اپیلوں کے سائے میں کی گئی ہے۔ ایتمار بن گویر سنہ 2023ء میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک مسجد اقصیٰ پر تقریباً 14 مرتبہ دھاوا بول چکا ہے، جو قبلہ اول کے خلاف اس کی جارحانہ پالیسی کا حصہ ہے۔

اسی تناظر میں قابض اسرائیلی افواج مسلسل 38ویں روز بھی مسجد اقصیٰ کی تالا بندی کیے ہوئے ہیں اور وہاں نماز کی ادائیگی پر پابندی برقرار ہے، جبکہ دوسری جانب آباد کاروں کے لیے حائط البراق کے دروازے کھولنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ وہ وہاں اپنی نام نہاد “برکت الکہنہ” کی دعا کر سکیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan