مقبوضہِ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج نے بدھ کی شام مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں روزہ داروں کے لیے افطاری کے کھانے لے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے، جس میں محکمہ اوقاف اسلامی کے ملازمین کے لیے مختص کھانا بھی شامل ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس گورنری نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ قابض اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں افطاری کے لیے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ آنے والے ان عام شہریوں پر بھی سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں جو اپنے ساتھ کھانا لائے تھے۔
یہ پابندیاں مسجد اقصیٰ میں حالیہ عرصے کے دوران دیکھی جانے والی غیر معمولی سختیوں کے ساتھ سامنے آئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد اقصیٰ سے بے دخلی کے احکامات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب تک ایسے کیسز کی تعداد تقریباً 150 تک پہنچ چکی ہے۔
بے دخلی کے ان ظالمانہ احکامات کا شکار ہونے والوں میں مسجد اقصیٰ کے اندر کام کرنے والے مختلف طبقات شامل ہیں، جن میں مسجد کے محافظین، محکمہ اوقاف اسلامی کے ملازمین، قدس کے سرگرم کارکنان، وہاں ہمہ وقت موجود رہنے والے مرابطین اور مرابطات کے علاوہ شیوخ اور ائمہ مساجد بھی شامل ہیں۔
یہ اقدامات اپنی نوعیت کے پہلے اقدامات ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ قابض دشمن کا ہدف کتنا وسیع ہو چکا ہے اور وہ مسجد اقصیٰ کے انتظام اور اس کی حفاظت میں فعال کسی بھی گروہ کو استثنیٰ دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ عمل قابض اسرائیل کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد مسجد اقصیٰ کی مذہبی اور سماجی قیادت کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس کے ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ فیصلے ان مسلسل اقدامات کا حصہ ہیں جن کا مقصد مسجد اقصیٰ کو اس کی اصل قیادت سے خالی کرنا اور یہودی سازی کے منصوبوں سمیت مسجد کی زمانی و مکانی تقسیم کو آسان بنانا ہے۔ ان ہتھکنڈوں نے مقبوضہ بیت المقدس گورنری کے شہریوں اور مذہبی اداروں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
