(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی مزاحمتی سکیورٹی سے وابستہ پلیٹ فارم الحارس نے منگل کے روز قابض اسرائیل کے ساتھ رابطے میں رہنے والے مخبروں کے اعترافات کا ایک حصہ عوام کے سامنے جاری کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام اس مقصد کے تحت کیا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسیاں نوجوانوں اور شہریوں کو پھانسنے کے لیے جو خطرناک ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں ان سے خبردار کیا جا سکے۔
پلیٹ فارم نے ایک مخبر ت ’ع ‘کا اعتراف نقل کیا جس میں اس نے انکشاف کیا کہ قابض اسرائیل کا انٹیلی جنس افسر ہمیشہ انسان کی کمزوری تلاش کرتا ہے اور اسی کمزوری کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے، ابتدا میں وہ ہمدرد اور نرم خو بن کر سامنے آتا ہے مگر حقیقت میں وہ مخبر کی زندگی برباد کرنے کا سبب بنتا ہے اور بعض اوقات اسے قتل کے راستے پر بھی دھکیل دیتا ہے۔
یہ اعترافات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب غزہ میں فلسطینی مزاحمت قابض اسرائیل کے ساتھ جاسوسی کرنے والے نیٹ ورکس کا پیچھا تیز کر چکی ہے اور اس بات کو بے نقاب کر رہی ہے کہ کس طرح قابض دشمن معاشی، سماجی اور نفسیاتی دباؤ کا فائدہ اٹھا کر فلسطینیوں کو ایجنٹ بناتا ہے۔
اسی تناظر میں سکیورٹی امور سے وابستہ خصوصی پلیٹ فارمز جن میں الحارس بھی شامل ہے مسلسل آگاہی مواد اور مستند اعترافات شائع کر رہے ہیں، اس کا مقصد معاشرتی شعور کو بیدار کرنا اور شہریوں کو قابض اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے جال میں پھنسنے سے خبردار کرنا ہے کیونکہ جاسوسی قابض دشمن کا وہ خطرناک ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ فلسطینی معاشرتی ڈھانچے اور اندرونی سکیورٹی کو نشانہ بناتا ہے۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے قابض اسرائیلی فوج نے امریکی اور یورپی حمایت کے سائے میں غزہ میں کھلی نسل کشی کا ارتکاب کیا، جس میں قتل ،بھوک افلاس تباہی، جبری بے دخلی اور گرفتاریاں شامل ہیں، یہ سب عالمی اپیلوں اور عالمی عدالت انصاف کے احکامات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کیا گیا۔
اس نسل کشی کے نتیجے میں دو لاکھ 42 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے، اس کے علاوہ 11 ہزار سے زائد افراد لاپتا ہیں اور لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، جب کہ قحط کے باعث بے شمار جانیں ضائع ہوئیں جن میں زیادہ تر معصوم بچے شامل ہیں، ساتھ ہی غزہ کے بیشتر شہر اور علاقے مکمل طور پر مٹا دیے گئے۔
اسی دوران قابض اسرائیل کی فوج غزہ میں سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہیں یہ معاہدہ 10 اکتوبر سنہ 2023ء کو نافذ ہوا تھا، تاہم قابض فوج بمباری فائرنگ اور فلسطینی گھروں کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔
