غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے رُکن اور ممتاز فلسطینی رہنما ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح اتوار کی صبح 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ سیاسی، تعلیمی اور ثقافتی میدان میں طویل اور بامقصد جدوجہد کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوئے اور ان کی ان جلیل القدر خدمات پر پوری فلسطینی قوم انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔
ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح گذشتہ برسوں میں تحریک کے نمایاں ترین چہروں میں شمار ہوتے رہے۔ انہوں نے فلسطینی حکومتوں میں متعدد اہم سرکاری ذمہ داریاں انجام دیں جن میں دسویں فلسطینی حکومت میں وزیر ثقافت اور وزیر امور اسیران کے عہدے شامل ہیں۔ اس دوران وہ قابض اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اپنی بھرپور اور مسلسل جدوجہد کے باعث جانے جاتے تھے۔
مرحوم ابو السبح نے غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات انجام دیں۔ وہ فلسطینی ثقافتی زندگی میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ایک ادیب، شاعر اور مصنف کی حیثیت سے انہوں نے متعدد شعری مجموعے اور تصانیف پیش کیں جن میں سماجی اور سیاسی مسائل کو قومی فکر اور انسانی پہلو کے امتزاج کے ساتھ پیش کیا گیا۔
ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح سنہ 1948ء میں عسقلان کے شمال میں واقع گاؤں السوافير الشرقیہ میں پیدا ہوئے جو بعد ازاں قابض اسرائیل کے قبضے اور تباہی کا شکار ہوا۔ انہوں نے رفح میں مہاجرین کے ماحول میں پرورش پائی۔ بعد ازاں رام اللہ کمیونٹی کالج اور النجاح نیشنل یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور پھر سنہ 1995ء میں سوڈان کی ام درمان یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کی۔
مرحوم رہنما اسیران اور مزاحمت سے متعلق اپنے دوٹوک اور جرات مندانہ مؤقف کے باعث معروف تھے۔ انہوں نے مختلف مواقع پر خصوصاً وزارت اسیران کے دور میں فلسطینی عوام کے حقوق کے دفاع قابض، اسرائیل کے خلاف ڈٹ جانے اور عالمی برادری کو فلسطینی کاز کی حمایت کے لیے متحرک کرنے پر زور دیا۔
ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح نے حماس کے سیاسی سفر میں گہرا اور دیرپا اثر چھوڑا۔ انہوں نے اسیران کے مقدمے کو عالمی سطح پر اٹھانے سمیت متعدد بنیادی قومی مسائل پر تحریک کے مؤقف کی تشکیل میں کردار ادا کیا اور شدید چیلنجز کے باوجود فلسطینی قومی منصوبے سے متعلق فکری مباحث میں بھرپور شرکت کی۔
