Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مزاحمتی اسلحہ چھیننا بڑا گناہ اور صرف اسرائیلی مفاد میں ہے، حزب اللہ

بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلحہ کو محدود کرنے کی اپنی کوششیں بند کرے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مزاحمت کا اسلحہ چھیننا صرف قابض اسرائیل کے مفاد میں ہوگا۔

“شہدائے قائدین” کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ نعیم قاسم نے واضح کیا کہ لبنان میں مزاحمت کا اسلحہ چھیننے کی کوئی بھی کوشش ایک ” بڑا گناہ” ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا کوئی بھی قدم صرف اور صرف صہیونی دشمن کے اہداف کو پورا کرے گا۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ لبنانی دستور طائف معاہدے کے مطابق قابض اسرائیل کے قبضے سے آزادی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حزب اللہ جنگ نہیں چاہتی اور نہ ہی اس کی خواہشمند ہے، لیکن ساتھ ہی وہ کسی صورت ہتھیار بھی نہیں ڈالے گی۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ لبنان کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور غاصب دشمن بخوبی جانتا ہے کہ جنگ کا نتیجہ اس کے حق میں نکلنا یقینی نہیں ہے۔

انہوں نے امریکہ کو قابض اسرائیل کا مکمل شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطینی زمین کے الحاق، قتل و غارت اور نسل کشی کی کارروائیوں کی براہ راست نگرانی کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل ایک توسیع پسند وجود ہے جو پورے فلسطین اور خطے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، اور اس کے نزدیک تمام تر معاہدے محض کاغذ کے ٹکڑے ہیں، جس کی واضح مثالیں اوسلو اور میڈرڈ معاہدے ہیں۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب لبنان پر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے امریکہ اور قابض اسرائیل کی جانب سے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف نومبر سنہ 2024 میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کی وجہ سے جنوبی لبنان میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

آج فجر کے وقت بھی جنوبی لبنان میں بنت جبيل قضا کے قصبے حانین میں قابض اسرائیل کے ڈرون طیارے نے ایک سویلین گاڑی کو کئی میزائلوں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک لبنانی شہری شہید ہو گیا۔

یاد رہے کہ لبنان کو اکتوبر سنہ 2023 سے اسرائیلی جارحیت کا سامنا ہے جو ستمبر سنہ 2024 میں ایک کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں جنگ بندی سے قبل 4 ہزار سے زائد افراد شہید اور 17 ہزار زخمی ہوئے تھے۔

جنگ بندی کے باوجود قابض اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ قابض دشمن کے جنگی اور ڈرون طیارے مسلسل جنوبی لبنان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، جبکہ دشمن نے حالیہ جنگ کے دوران قبضہ کی گئی پانچ سرحدی پہاڑیوں پر اب بھی اپنا ناجائز قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan