جزیرہ نما مالٹا نے فلسطینی شہر غزہ کی پٹی کی پانچ سال سے جاری معاشی ناکہ بندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے معاشی ناکہ بندی فوری طور پر اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے. مالٹا کے وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ کی معاشی ناکہ بندی جاری رکھ کر جارحیت اور انسان دشمنی کا مظاہرہ کر رہا ہے. مرکز اطلاعات فلسطین کے ذرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مالٹا کے وزیرخارجہ ٹونیو بورگ نے جمعہ کے روز غزہ کی پٹی کا دورہ کیا . اس دوران انہوں نے شہر کی معاشی ناکہ بندی سے شہریوں کو درپیش مشکلا ت کا جائزہ لیا. اس موقع پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر بورگ کا کہنا تھا کہ انہیں غزہ کی معاشی ناکہ بندی سے پیدا صورت حال دیکھ کر بہت دکھ ہوا. اسے ختم کرنے کے لیے باتوں سے زیادہ عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے. اس لیے ہمارا اسرائیل سے مطالبہ ہے کہ وہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی کو پہلی فرصت میں اٹھائے. ایک سوال کے جواب میں مالٹا کے وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی اٹھانے کے لیے اقوام متحدہ، یورپی یونین، روس اور امریکا پر مشتمل گروپ چار بھی بری طرح ناکام رہا ہے.عالمی برادری کی جانب سے غزہ کی معاشی ناکہ بندی اٹھانے کے لیے صرف بیانات بازی تک کام کیا گیا ہے عملا کسی حکومت نے کوئی کردار ادا نہیں کیا. انہوں نے گروپ چار سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی اٹھانے کے سلسلہ میں اپنے وعدوں کو پورا کریں اور صرف بیانات کی اشاعت کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں.