بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) حزب اللہ نے اپنی عسکری کارروائیوں کی شدت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے اور جمعرات کے روز قابض اسرائیل کی بستیوں اور فوجی ٹھکانوں پر 33 حملوں کا اعلان کیا ہے۔ جاری جارحیت کے جواب میں کی جانے والی ان کارروائیوں کے نتیجے میں دو مارچ سنہ 2026ء سے اب تک حزب اللہ کے مجموعی حملوں کی تعداد 1221 تک پہنچ گئی ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے جاری کردہ بیانات کے مطابق ان حملوں میں شمالی قابض اسرائیل کی 6 بستیوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں کریات شمونا اور نہاریہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حملوں کا دائرہ کار فوجی مقامات اور فوجیوں کے اجتماعات تک بھی پھیلا دیا گیا۔
اس تناظر میں حزب اللہ نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی فوجیوں اور گاڑیوں کے 25 اجتماعات پر ضربیں لگائی گئیں جو لبنانی سرحدی علاقوں اور شمالی قابض اسرائیل کے مختلف مقامات بشمول رشاف اور الطیبہ کے علاقوں میں موجود تھے۔
فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے حزب اللہ نے اعلان کیا کہ جنوبی لبنان کے سرحدی گاؤں رامیہ میں ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر پر میزائل داغا گیا جس نے اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ مزید برآں خیام کے قابض صہیونی عقوبت خانے کے مشرق میں ایک میرکاوا ٹینک کو گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔
ان کارروائیوں میں حیفہ کے قریب کریات آتا اور الکریوت کے علاقوں میں موجود تنصیبات اور دادو بیس کو بھی نشانہ بنایا گیا جو اسرائیلی فوج کی شمالی کمان کا ہیڈ کوارٹر ہے۔
حزب اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کارروائیاں لبنان اور اس کے عوام کے دفاع کے تناظر میں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران اپنے دو فوجیوں کے زخمی ہونے کا اعتراف کیا ہے جبکہ عبرانی میڈیا کے مطابق راکٹ حملوں کے نتیجے میں اسرائیلی آباد کار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
قابض اسرائیل ان حملوں کے نتائج پر سخت میڈیا بلیک آؤٹ برقرار رکھے ہوئے ہے اور جانی و مالی نقصانات کی معلومات چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ کشیدگی دو مارچ سنہ 2026ء سے لبنان پر جاری وسیع تر اسرائیلی جارحیت کے تسلسل میں سامنے آئی ہے جس میں اب تک 1300 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔
یہ صورتحال 28 فروری سنہ 2026ء سے امریکہ اور قابض اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری وسیع تر علاقائی جارحیت سے بھی جڑی ہوئی ہے جس نے خطے کو بڑی جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
