مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مرکز معلومات فلسطین (معطی) نے لرزہ خیز انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارہ ان دنوں قابض اسرائیلی فوج اور انتہا پسند آباد کاروں کی جانب سے بے مثال جارحیت اور سفاکیت کی لپیٹ میں ہے جہاں رواں مارچ کے آغاز سے اب تک انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی پامالی کے 7476 واقعات رونما ہو چکے ہیں۔
مرکز نے اپنے اعداد و شمار میں واضح کیا ہے کہ صہیونی دشمن کی ان خونی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 22 فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ 214 فرزندانِ ملت زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق قابض دشمن کی جانب سے نہتے فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کے واقعات میں بھی ہولناک اضافہ دیکھا گیا ہے اور محض اسی قلیل مدت کے دوران فائرنگ کے 183 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلح آباد کاروں کی دہشت گردی اس خونی منظر نامے میں نمایاں رہی جہاں آباد کاروں کے 297 منظم حملوں کی دستاویزات تیار کی گئی ہیں۔ ان حملوں میں شہریوں پر وحشیانہ تشدد، فلسطینی اراضی پر دھاوے، مار پیٹ اور اندھا دھند فائرنگ شامل ہے جو درحقیقت فلسطینیوں کی نسل کشی اور انہیں اپنی آبائی سرزمین سے جبراً بے گھر کر کے ایک نیا غاصبانہ تسلط قائم کرنے کی صہیونی سازش کا حصہ ہے۔
رپورٹ میں مزید اشارہ کیا گیا کہ قابض اسرائیل نے 39 نئی آباد کاری کی سرگرمیاں انجام دے کر اپنے نوآبادیاتی پنجے مزید گاڑنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس مذموم مقصد کے لیے فلسطینی بستیوں میں 1023 بار دراندازی کی گئی اور معصوم شہریوں کے گھروں پر 1015 بار شب خون مارا گیا جو دشمن کی بڑھتی ہوئی سکیورٹی جارحیت کا بین ثبوت ہے۔
صہیونی شرپسندی کی یہ لہر فلسطینیوں کی املاک اور شہری ڈھانچے کو بھی اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے جہاں املاک کی تباہی کے 98 اور لوٹ مار و ضبطی کے 1113 واقعات پیش آئے۔ اس کے ساتھ ساتھ 58 فلسطینی گھروں پر غاصبانہ قبضہ کر کے مکینوں کو در بدر کر دیا گیا۔
فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر پہرے بٹھاتے ہوئے قابض اسرائیل نے مختلف فوجی چوکیوں اور الحاق شدہ راستوں پر 888 تادیبی اقدامات نافذ کیے۔ اس کے علاوہ 636 مرتبہ راستوں کی مکمل بندش عمل میں لائی گئی جس کے نتیجے میں عوامی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی اور شہریوں کی روزمرہ نقل و حمل پر آہنی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
مرکز نے اس امر پر زور دیا کہ یہ مسلسل بڑھتا ہوا تناؤ ایک ہمہ گیر اور مربوط جارحیت کا عکاس ہے جس میں صہیونی ریاست کے فوجی جبر کے اوزار اور آباد کاروں کی دہشت گردی باہم مل کر فلسطینیوں کے وجود کو مٹانے اور زمین پر نئے جابرانہ حقائق مسلط کرنے کے درپے ہیں۔
یہ تشویشناک صورتحال گذشتہ مہینوں سے جاری ان منظم حملوں کا تسلسل ہے جس میں درجنوں فلسطینی شہید و زخمی ہوئے جبکہ دشمن نے فلسطینیوں کی لہلہاتی فصلوں کو تلف کرنے اور ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور املاک کو خاک میں ملانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
واضح رہے کہ گذشتہ فروری کے مہینے میں بھی قابض اسرائیلی افواج اور آباد کاروں کی جانب سے تقریبا 1965 سفاکانہ حملے ریکارڈ کیے گئے تھے جن میں جسمانی تشدد، پھلدار درختوں کو اکھاڑنا، زمینوں کو آگ لگانا، املاک پر ناجائز قبضہ اور غریب فلسطینیوں کے گھروں اور تنصیبات کی مسماری جیسے گھناؤنے جرائم شامل تھے۔
