Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

لبنان میں اسرائیلی جارحیت، 7 لاکھ افراد جبری ہجرت پر مجبور: یونیسیف

نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (یونیسیف) نے اعلان کیا ہے کہ لبنان میں صہیونی فوج کی وحشیانہ جارحیت کے نتیجے تقریباً 7 لاکھ افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے بیروت کے جنوبی ضاحیہ، بقاع اور جنوبی علاقوں پر وحشیانہ فضائی حملوں کا سلسلہ پوری شدت سے جاری ہے۔

عالمی ادارے نے شہریوں کو ادا کرنی پڑنے والی اس بھاری قیمت پر خبردار کرتے ہوئے اشارہ کیا کہ ان بے گھر ہونے والے افراد میں تقریباً 2 لاکھ بچے اور نوجوان شامل ہیں جو انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے یونیسیف کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈورڈ بیگبیڈر نے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کی رفتار پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ بچے ہولناک شرح سے شہید اور زخمی ہو رہے ہیں۔

یونیسیف نے زور دیا کہ لبنان میں جاری جارحیت میں اضافہ اور بچوں کو پہنچنے والا بھاری نقصان شدید تشویش کا باعث ہے۔ ادارے نے لبنانی وزارت صحت کے گذشتہ اتوار کو جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کی طرف اشارہ کیا جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں ماہ 2 مارچ سے اب تک قابض اسرائیل کی جارحیت میں کم از کم 83 بچے شہید ہو چکے ہیں، جبکہ کل 394 شہداء میں سے 254 بچے ان 1130 زخمیوں میں شامل ہیں جو اس سفاکیت کا شکار ہوئے۔

لبنانی وزارت صحت کے ڈیٹا کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک 500 سے زائد شہداء میں سے کم از کم 83 بچے اور 42 خواتین اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اوسطاً روزانہ 100 افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں۔

ایڈورڈ بیگبیڈر نے مزید کہا کہ بمباری کے جہنم سے خوفزدہ ہو کر ہجرت کرنے والے ہزاروں خاندان اب سرد اور گنجان پناہ گاہوں میں راتیں گزار رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اعداد و شمار لبنان کو اپنی لپیٹ میں لینے والے اس المیے کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جہاں ملک اپنی جدید تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔

بیروت کے جنوبی ضاحیہ سے ہجرت کرنے والے افراد نے قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے علاقہ خالی کرنے کی دھمکیوں کے بعد لبنانی دارالحکومت کے ساحۃ الشہداء اور دیگر شاہراہوں پر کھلے آسمان تلے ڈیرے ڈال لیے ہیں۔

بے گھر افراد کی اس بڑی تعداد کے پیش نظر بیروت میں عوامی مقامات کو ہنگامی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں ملک کی سب سے بڑی کھیلوں کی سہولت “کمیل شمعون” سپورٹس سٹی اب سینکڑوں خاندانوں کے لیے ایک پناہ گاہ بن چکا ہے۔

اس سٹیڈیم کی راہداریوں میں انسانی مصائب کی لہریں صاف دکھائی دیتی ہیں، جہاں بے گھر لوگ خیموں میں مقیم ہیں اور سخت سردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کپڑوں اور اونی جیکٹوں جیسی امداد کے منتظر ہیں۔

قابض اسرائیلی فوج جنوبی ضاحیہ، جنوب اور بقاع کے وسیع علاقوں کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری کر رہی ہے۔ لبنانی عوام اس اقدام کو اسرائیل کی جانب سے انہیں بے گھر کرنے، ان کے دیہات و شہر تباہ کرنے اور انہیں جنگ میں پریشر گروپ کے طور پر استعمال کرنے کا ایک ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔ اس صورتحال نے ملک کو ایک طویل المدتی انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے، جس کے اثرات گذشتہ تمام تنازعات سے زیادہ سنگین نظر آ رہے ہیں۔

یونیسیف نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ گذشتہ 28 مہینوں کے دوران لبنان میں 329 بچوں کی شہادت اور 1632 کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں، لیکن صرف گذشتہ چھ دنوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد شہید بچوں کی مجموعی تعداد 412 تک پہنچ گئی ہے جو کہ ایک بڑا المیہ ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan