غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” کے صہیونی جیلوں میں قید رہنما حسن سلامہ نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی جیلوں میں قیدی انتہائی لرزہ خیز اور کٹھن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ قابض انتظامیہ کی جانب سے مسلسل جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے اسیران کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے۔
نامور وکیل حسن عبادی جنہوں نے حال ہی میں گانوت صحرائی صہیونی زندان میں حسن سلامہ سے ملاقات کی، ان کا احوال بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ حسن سلامہ نے کہاکہ “ہم محض چلتے پھرتے ڈھانچے بن کر رہ گئے ہیں”۔ ان کا یہ جملہ ان دسیوں کلو وزن کی کمی کی طرف اشارہ تھا جو ناقص غذا اور قابض انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ خوراک کی انتہائی قلیل مقدار کے باعث اسیران کو لاحق ہوئی ہے۔
وکیل حسن عبادی نے ملاقات کا منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ حسن سلامہ جب سامنے آئے تو نقاب پوش اور مسلح پہرے داروں کا ایک جتھہ ان کے ساتھ تھا، انہیں براہ راست تنہائی کی کوٹھڑی سے لایا گیا تھا۔
عبادی نے بتایا کہ میں نے بات کا آغاز کرتے ہوئے پوچھا کہ “حسن تم کیسے ہو؟” تو وہ مسکرائے اور کہاکہ “لگتا ہے آپ کا رابطہ غفران (ان کی اہلیہ اور سابقہ اسیر غفران زامل) سے ہوا ہے”۔ انہوں نے مزید کہاکہ “میں نے اس کے ساتھ بڑی زیادتی کی، وہ بہت صابر ہے اور مجھے برداشت کر رہی ہے، وہ مجھ سے زیادہ قربانیاں دے رہی ہے۔ کیا اس نے عمرہ کر لیا ہے؟”۔
اسیری کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے حسن سلامہ نے کہاکہ “ہمارے حالات حد درجہ دشوار ہیں اور تصویر آپ کے سامنے واضح ہے۔ واللہ، مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ ہم اصحابِ کہف ہیں یا اہل قبور؟ ہم نے مہینوں سے سورج کی روشنی نہیں دیکھی”۔
ایڈووکیٹ عبادی نے بتایا کہ میں نے انہیں اس عالمی مہم “قابض اسرائیل کی جیلوں سے اسیران کو بچاؤ” کے بارے میں بتایا جس کی میڈیا پر کوآرڈینیشن ان کی اہلیہ غفران کر رہی ہیں اور یہ کہ اس مہم کی توجہ سزائے موت اور ہنگامی قوانین کو ختم کروانے پر مرکوز ہے۔
حسن سلامہ نے اپنے اہل خانہ اور اہلیہ غفران کے لیے سلام بھیجتے ہوئے پیغام دیاکہ “میری عزیزہ شریک حیات، امید ہے تم خیریت سے ہوگی۔ غفران! میرے پاس تمہارے لیے اپنی محبت اور اشتیاق بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں، میری زبان تمہاری قدر و منزلت بیان کرنے سے قاصر ہے”۔
انہوں نے مزید کہاکہ “میری خواہش ہے کہ رمضان کا مہینہ آئے تو ہم تمہارے پاس ہوں۔ امید کا دامن اب بھی ہاتھ میں ہے اور ہم اللہ کے حکم سے رہائی اور فرج کے منتظر ہیں”۔
وکیل حسن عبادی نے واضح کیا کہ حسن سلامہ اس وقت تنہائی کی کوٹھڑیوں قید تنہائی میں دیگر اسیران محمود عطا اللہ، قصے مرعی، محمد عرمان، انس جردات، اسلام جرار، احمد مغربی، مہند شریم اور ولید حناتشہ کے ہمراہ قید ہیں۔
مختصر سوانح حیات
حسن سلامہ سنہ نو اگست 1971ء کو غزہ کی پٹی میں خان یونس پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کا تعلق سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں الرملہ کے قریبی قصبے الخیمہ سے ہے۔
حسن سلامہ سنہ 1987ء کے آخر میں شروع ہونے والی پہلی فلسطینی انتفاضہ کے اولین شرکاء میں سے تھے، جہاں انہوں نے قابض افواج پر پتھروں اور پیٹرول بموں سے حملوں میں حصہ لیا۔ سنہ 1988ء سے سنہ 1992ء کے درمیان انہیں پانچ بار انتظامی حراست کا سامنا کرنا پڑا، جس میں ہر بار انہیں بغیر کسی الزام یا مقدمے کے چھ چھ ماہ قید رکھا گیا۔
جب قابض اسرائیل نے ان کے مزاحمت کاروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تو وہ سنہ 1992ء میں روپوش ہو کر فلسطین سے نکلنے پر مجبور ہو گئے، جہاں انہوں نے شام، ایران، لیبیا اور سوڈان میں عسکری تربیت حاصل کی۔
دو سال بعد حسن سلامہ فلسطینی اتھارٹی کے ابتدائی دور میں غزہ واپس آئے، جہاں انہیں سنہ 1994ء میں گرفتار کر لیا گیا اور وہ چھ ماہ تک جیل میں رہے۔
وہ مزاحمتی سرگرمیوں میں بتدریج آگے بڑھے یہاں تک کہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے رکن بن گئے اور انہوں نے القسام کے کمانڈر انچیف شہید محمد الضیف کے ساتھ براہ راست کام کیا۔
بعد ازاں وہ مغربی کنارے منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے الخلیل شہر سے اپنی عسکری سرگرمیاں جاری رکھیں اور شہید انجینئر یحییٰ عیاش کے ہمراہ القسام بریگیڈز کے جہادی یونٹ تشکیل دیے۔ یحییٰ عیاش کی شہادت کے بعد حسن سلامہ نے ان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے ایک جامع عسکری منصوبہ بندی کی۔
حسن سلامہ نے متعدد عسکری کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جس سے غاصب دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ عبرانی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں 46 صہیونی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اس کے نتیجے میں قابض اسرائیل نے بڑے پیمانے پر چھاپوں اور تعاقب کا سلسلہ شروع کیا، غزہ اور مغربی کنارے کا محاصرہ کر لیا گیا اور حسن سلامہ “انتہائی مطلوب افراد” کی فہرست میں سرِ فہرست آ گئے۔
ایک طویل تعاقب کے بعد قابض اسرائیل کے ایک اچانک فوجی ناکے پر انہیں روکنے کی کوشش کی گئی، وہ گاڑی سے نکل کر بھاگے لیکن قابض فوجیوں نے پیچھا کرتے ہوئے گولیاں چلائیں جس سے وہ زخمی ہو گئے اور 17 مئی سنہ 1996ء کو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
حسن سلامہ کو 48 بار عمر قید کی سزا سنائی گئی، جو فلسطینی اسیران میں عبداللہ البرغوثی اور ابراہیم حامد کے بعد تیسری طویل ترین سزا ہے۔
