Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

قیدیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے اسرائیلی مظالم پر عالمی توجہ لازم: اسیران امور اتھارٹی

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی اسیران کے امور کی نگران اتھارٹی اور رہائی پانے والے اسیران کے ادارے کے سربراہ وزیر رائد ابو الحمص نے قابض اسرائیلی حکومت اور اس کی جیل انتظامیہ کی جانب سے فلسطینی اسیران کے خلاف جاری ایک خطرناک اور بے مثال جارحیت سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اتھارٹی ان منظم پالیسیوں کے مقابلے کے لیے بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ ترین سطح تک بھرپور اور مسلسل اقدامات کر رہی ہے جو جبر، اجتماعی سزا اور سیاسی انتقام پر مبنی ہیں اور بین الاقوامی معاہدات اور معیاروں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

ابو الحمص نے صحافیوں سے گفتگو میں واضح کیا کہ قابض اسرائیلی جیلوں کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے وہ اب انفرادی زیادتیوں یا سکیورٹی اقدامات کے دائرے میں نہیں آتا بلکہ ایک مستقل اور سوچا سمجھا طریقہ کار بن چکا ہے جس کا مقصد اسیران کے عزم کو توڑنا اور ان کے انسانی وقار کو پامال کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جیلوں کے حصوں پر مسلسل دھاوے بولے جا رہے ہیں، منظم جسمانی تشدد کیا جا رہا ہے، طاقت کا حد سے زیادہ استعمال ہو رہا ہے، علاج اور طبی نگہداشت سے دانستہ محروم رکھا جا رہا ہے، زندگی کی بنیادی سہولتیں سلب کی جا رہی ہیں اور اجتماعی تعزیری اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں جو بلا استثنا تمام جیلوں تک پھیل چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتھارٹی ان تمام خلاف ورزیوں کو نہایت باریک بینی سے دستاویزی شکل دے رہی ہے اور انہیں باقاعدگی سے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کونسل اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی میکانزم سمیت عالمی اور حقوقی اداروں تک پہنچا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بااثر عالمی فریقوں سے رابطے بھی جاری ہیں تاکہ قابض اسرائیل پر حقیقی اور مؤثر دباؤ ڈالا جا سکے اور اسے بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی پر مجبور کیا جا سکے اور ان اقدامات کو روکا جا سکے جو کئی پہلوؤں سے جنگی جرائم اور سنگین خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔

ابو الحمص نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل اسیران کی صحت اور نفسیاتی حالت میں خطرناک بگاڑ کی مکمل قانونی ذمہ داری اٹھاتا ہے کیونکہ بیمار اسیران کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور دانستہ طبی غفلت کی پالیسی بدستور جاری ہے جو سینکڑوں اسیران کی جانوں کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکی ہے اور یوں عالمی برادری کو انسانی حقوق کے نظام کی ساکھ کے ایک کڑے امتحان سے دوچار کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی خاموشی یا محض تشویش کے بیانات قابض اسرائیل کو اپنی سفاکانہ کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے سیاسی اور قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ محض زبانی مذمت سے آگے بڑھ کر عملی اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں جن میں بین الاقوامی احتسابی میکانزم کو فعال کرنا، آزاد حقائق جانچنے والی کمیٹیاں بھیجنا اور جیلوں کے اندر اسیران کی صورتحال پر مؤثر عالمی نگرانی کو یقینی بنانا شامل ہے۔

بیان کے اختتام پر ابو الحمص نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اتھارٹی مقامی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر قانونی اور سفارتی جدوجہد بلا تعطل جاری رکھے گی اور سزا سے بچ نکلنے کی پالیسی کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

انہوں نے عالمی برادری، بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھائیں، فلسطینی اسیران کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں، ان کے انسانی حقوق کی ضمانت دیں اور ان بڑھتی ہوئی خطرناک خلاف ورزیوں کا فوری طور پر خاتمہ کریں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan